راہِ عمل
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
تخریبِ اسلام کے ہم معنی بن گیا۔ قدیم غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے جڑ کا کام دعوت دین کا کام تھا۔ اور اردو یا تہذیبی مظاہر کا تحفظ صرف شاخوں کا کام۔ ہندوستانی مسلمانوں نے جڑ کے کام کو چھوڑ دیا۔ وہ شاخوں اور پتیوں کے مسئلے پر ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ مسلمان اگر جڑ والا کام کرتے تو تقریباً یقینی ہے کہ آج ہندوستان کی تاریخ دوسری ہوتی۔ اس کے برعکس، جب انھوں نے شاخوں والا کام کیا تو اس کے حصے میں ذلت اور بربادی کے سوا کچھ نہ آیا۔ وہ ہندوستان میں کوئی قابلِ ذکر تاریخ بنا سکے اور نہ پاکستان میں۔ داخل کے بجائے خارج ہندوستان میں پچھلی تقریباً نصف صدی سے جو مسئلہ مسلمانوں کے ذہنوں پر سب سے زیادہ چھایا رہا ہے، وہ ہند و ظلم کا مسئلہ ہے۔ اس مدت میں مسلمانوں نے اپنی سب سے زیادہ طاقت اسی مسئلے پر خرچ کی ہے۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو اب تک مسلمان کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کی تمام کوششیں اتباع سبل کے طریقہ پر چل رہی ہیں، وہ اتباع صراط کے طریقہ پر نہیں چل رہی ہیں۔ اور یہی ان کی ناکامی کی اصل وجہ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلمان جو کوششیں کر رہے ہیں، وہ بظاہر مختلف اور متعدد ہیں۔ مگر وسیع تر تقسیم میں ان سب کا خلاصہ ایک ہے۔ وہ سب کی سب ”خارج رخی“ ہیں، ان میں سے کوئی بھی ”داخل رخی“ نہیں۔ یہ تمام کی تمام تحریکیں مسلمانوں کے مسائل کو ہند و فرقہ پرستی کے خانے میں ڈال رہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو بے قصور ٹھہراتے ہوئے یک طرفہ طور پر اکثریتی فرقے کے خلاف فریاد و احتجاج کا طوفان برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ یہ واضح طور پر ”اتباع سُبل“ ہے۔ کیوں کہ قرآن و حدیث کی تصریحات کے مطابق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader