دعوت کی اہمیت
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
دے چکے ہیں۔ لاتعداد بلین ڈالر اس پر، براہ راست یا بالواسطہ طور پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مگر نتیجہ بالکل برعکس ہے۔ افغانستان سے مراکش تک پھیلی ہوئی وسیع و عریض مسلم دنیا کے اندر اسرائیل ایک چھوٹا سا دحبہ ہے۔ مگر اس کے خلاف مسلمانوں کی نصف صدی کی کوششیں بھی بالکل ناکام ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل کا رقبہ، ابتدائی رقبہ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوگیا۔ اسرائیل کے مقابلے میں ساری دنیا کے مسلمان مکمل طور پر بے بس ثابت ہو رہے ہیں۔ اس ناکامی کی توجیہ مسلم رہنماؤں کی طرف سے یہ کی جاتی ہے کہ اسرائیل میں ہمارا مقابلہ دراصل یہودیوں سے نہیں ہے بلکہ ایک سپر پاور (امریکہ) سے ہے۔ مقابلہ اگر صرف یہودیوں سے ہوتا تو اب تک ہم اس کا خاتمہ کر چکے ہوتے۔ امریکہ کی حمایت کی وجہ سے اب تک ہم اس محاذ پر کامیاب نہ ہو سکے۔ مگر اسی سپر پاور (امریکہ) کے بارے میں دوسری مثال لیجیے ۔ یہ مثال ویت نام کی ہے۔ 1954 کے جنیوا معاہدہ کے تحت ویت نام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ نارتھ ویت نام پر کمیونسٹوں کا غلبہ تھا، اور ساؤتھ ویت نام پر امریکہ کا۔ تاہم کچھ لوگوں نے اس تقسیم کو نہیں مانا۔ ساؤتھ ویت نام میں کمیونسٹ نواز باغیوں نے اپنی مخالفانہ سرگرمیاں شروع کر دیں۔ اس کو فرو کرنے کے لیے امریکہ کی مسلح فوجیں 1965 میں ویت نام میں داخل ہوگئیں اور 1975 تک اپنی ساری قوت کے ذریعہ باغیوں“ کی طاقت کو کچلنے کی کوشش کرتی رہیں لیکن گیارہ سال کی کوشش مکمل طور پر ناکام رہی۔ آخر کار 1975 میں امریکہ کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ یک طرفہ فیصلہ کے تحت اپنی فوجوں کو ویت نام سے واپس بلالے۔ فلسطین (اسرائیل) میں امریکہ صرف بالواسطہ طور پر شریک ہے۔ اس کے باوجود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader