Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

1962ء کا واقعہ ہے۔ چین نے ہندوستان کی مشرقی سرحد پر حملہ کر دیا۔ چینی فوجیں آسام کے علاقے میں گھس آئیں۔ اس وقت تیز پور (آسام) میں ایک ہندوستانی کمشنر تھا جو گویا وہاں ہندوستان کا نمائندہ تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ ہر حال میں وہاں موجود رہے، مگر وہ اپنا دفتر چھوڑ کر بھاگ گیا، اور اپنے وطن میں آکر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہنے لگا۔ نئی دہلی کی حکومت کو معلوم ہوا تو اس نے کمشنر کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ اس پر سرکاری ڈیوٹی کو چھوڑنے کا مقدمہ چلایا گیا، اور اس کو سخت سزا دی گئی۔ بچوں میں رہنا یا اپنے گھر کا انتظام سنبھالنا، عام آدمیوں کے لیے بالکل جائز بات تھی۔ مگر کمشنر کے لیے یہی بات ناقابل معافی جرم بن گئی، کیوں کہ کمشنر کی قیمت ”تیز پور“ میں تھی، اس کی قیمت ”گھر“ کے اندر نہ تھی۔ اگر وہ اپنی ڈیوٹی کے مقام پر ٹہرا رہتا تو وہ حکومت کا انتہائی مطلوب شخص بن جاتا۔ حکومت اس کو بچانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتی۔ اس کے لیے خصوصی ہوائی جہاز بھیجے جاتے۔ مگر جب اس نے اپنی ڈیوٹی کی جگہ چھوڑ دی تو اس نے اپنی قیمت بھی کھودی۔ اب وہ صرف ایک مجرم تھا۔ خواہ کسی اور میدان میں وہ کتنی ہی سرگرمی دکھا رہا ہو، خواہ وہ بظاہر مفید کام کیوں نہ کر رہا ہو۔ یہی موجودہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے، ان کے لیے نجات اور کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس والے کام کے لیے اٹھیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اندیشہ ہے کہ وہ بھی اسی طرح خدا کی پکڑ کی زد میں آجائیں گے جس طرح اس سے پہلے یہود آگئے ۔ اور اس کے بعد ان کی ساری سرگرمیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی، خواہ بطور خود انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو کتنا ہی شاندار عنوان دے رکھا ہو۔ یہود کی مثال بعثت محمدی سے پہلے قدیم زمانے میں یہودی اسی دعوت توحید اور شہادتِ حق کے مقام پر کھڑے کیے گئے تھے۔ مگر انہوں نے غفلت برتی۔ انہوں نے اپنی ڈیوٹی کو انجام دینا چھوڑ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page