Urdu book · راہِ عمل

یہود کی مثال

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا کی نظر میں بے قیمت ہو گئے۔ خدا نے انہیں غیر اقوام کے حوالے کر دیا۔ ان کا یہ حال ہو گیا کہ وہ بڑے بڑے عمل کرتے تھے مگر ان کے عمل کا کوئی نتیجہ ان کے حصے میں نہ آتا تھا۔ بائبل کے آخری ابواب میں یہود کے اس انجام کا تفصیل سے ذکر آیا ہے۔ ان کے نبی بار بار انہیں اس غفلت پر تنبیہ کرتے ہوتے نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں بائبل کا ایک پیرا گراف نقل کیا جاتا ہے: ”تب خداوند کا کلام تجی نبی کی معرفت پہنچا کہ کیا تمہارے لیے مسقف گھروں میں رہنے کا وقت ہے جب کہ یہ گھر ویران پڑا ہے۔ اور اب رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو۔ تم نے بہت بویا پر تھوڑا کاٹا۔ تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی۔ تم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے اور مزدوری اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ اپنی روش پر غور کرو۔ پہاڑوں سے لکڑی لا کر یہ گھر تعمیر کرو اور میں اس سے خوش ہوں گا اور میری تمجید ہوگی خداوند فرماتا ہے۔ تم نے بہت کی امید رکھی اور دیکھو تھوڑا ملا اور جب تم اسے اپنے گھر میں لائے تو میں نے اسے اُڑا دیا۔ رب الافواج فرماتا ہے کیوں؟ اس لیے کہ میرا گھر ویران ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کو دوڑا چلا جاتا ہے، اس لیے نہ آسمان سے اوس گرتی ہے اور نہ زمین اپنا حاصل دیتی ہے۔ “(حجی، 10:1-1:1) یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا انجام نظر آتا ہے، انہوں نے بھی بہت بویا پر تھوڑا کاٹا۔ ان کی دھواں دھار تحریکوں اور بڑی بڑی کانفرنسوں کا حاصل عملاً اتنا کم ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا مسلمانوں کا ہر رہنما اپنی محنت کی کمائی کو سوراخ دار تھیلی میں جمع کر رہا ہے جو گھر پہنچتے پہنچتے گر جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page