احساس امانت کا فقدان
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اقبال سے پوچھا کہ ہماری ریاست کے انتظام (ایڈمنسٹریشن) کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں۔ اقبال نے ریاست حیدر آباد کے انتظام کی تعریف کی۔ پھر اقبال نے کہا کہ مگر ایک چیز کو دیکھ کر مجھے سخت تکلیف پہنچی۔ نظام نے بے تابی کے ساتھ پوچھا کہ وہ کیا ہے۔ اقبال نے کہا کہ آپ کا خاندان تین سو سال سے حیدر آباد پر حکومت کر رہا ہے۔ مگر آپ نے تبلیغ پر کوئی توجہ نہ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان یہاں بہت کم تعداد میں ہیں۔ نظام نے کہا کہ میں آپ کی بات سمجھ گیا۔ کیا آپ بتائیں گے کہ اس سلسلے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اقبال نے جواب دیا کہ آپ کے اجداد کو اسلام کی تبلیغ میں حقیقی کوشش کرنا چاہیے تھا۔ وہ اس کو کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے نہیں کیا۔ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب اگر اسلام کی اشاعت کے لیے کوئی کوشش کی جاتی ہے تو وہ پریشان کن ثابت ہوگی۔ نظام نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا کہ ہاں بات تو ایسی ہی ہے۔ اس کے بعد 19 جنوری 1929 کو اقبال حیدر آباد سے واپس ہو کر لا ہور چلے گئے۔ مصنف کتاب کے الفاظ یہ ہیں : “Iqbal said, “Your Exalted Highness, your dynasty has ruled over the State for the last three hundred years or so, but you paid little attention to the spreading of Islam. The result is that the Muslims are only a small percentage of the population. The Nizam said, “Yes, I understand your point. Could you suggest what should be done”The Allama said“Your Highness forefathers should have made real effort to spread Islam. They could have done that. Now it is rather late, and if any attempt is made to spread Islam that would be embarrassing. The Nizam sighed and said“yes, that is so.”

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader