Urdu book · راہِ عمل

داخل کے بجائے خارج

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کو دوسروں کی سازشیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ مسلمانوں کو جب بھی کوئی نقصان پہنچے گا وہ اصلاً ان کی داخلی کمزوریوں کے سبب سے پہنچے گا۔ خدا اور رسول کے فرمودات کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ تمام معاملے کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہوئے اپنی داخلی اصلاح کی مہم میں لگ جاتے۔ اس کے بجائے وہ فریق ثانی کے خلاف چیخ پکار کے راستے پر چل پڑے۔ اس طرح انھوں نے اتباع صراط کے بجائے اتباع سُبل کا طریقہ اختیار کیا۔ اور جو لوگ اتباع سُبل کا طریقہ اختیار کریں انھیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے جڑ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کریں۔ اندرونی کمزوریوں کو دور کرنے کے بعد کسی کو ان کے اوپر دست درازی کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ تبدیلی انسان کے بجائے تبدیلی حکومت موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ مغربی قو میں جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر اپنے علاقوں سے نکلیں اور لاکھوں نے ایشیا اور افریقہ میں پھیلی ہوئی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ نے ان کے ’’دفع‘‘ کا انتظام کیا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم نے مغربی اقوام کو اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ خود اپنی طاقت سے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں پر اپنا قبضہ باقی رکھ سکیں۔ چنانچہ انھوں نے ایک کے بعد ایک اپنے مقبوضہ ملکوں کو آزاد کرنا شروع کیا یہاں تک کہ بیسویں صدی کے وسط تک تمام مسلم ممالک ان کے سیاسی قبضے سے آزاد ہو گئے۔ آزادی کے بعد ان ملکوں کی حکومت جن مسلم افراد کے ہاتھ میں آئی وہ اگرچہ مغربی طرز کی تعلیم پائے ہوئے تھے۔ مگر قدیم روایتی نظام کا اثر بھی ان کے اوپر نہایت گہرا تھا۔ وہ خواہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page