احساس امانت کا فقدان
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
اقبال کی یہ گفتگو بتاتی ہے کہ حیدر آباد کے غیر مسلموں میں دعوت و تبلیغ کا مسئلہ ان کے لیے مسلم سیاست کی توسیع کا مسئلہ تھا ، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدا کے پیغام کی پیغام رسانی کا مسئلہ۔ انہوں نے اس کو خود اپنے قومی مسئلے کے طور پر سوچا ، نہ کہ مخاطب کی اپنی نجات کے مسئلے کے طور پر۔ یہ اندازِ فکر امانت کے تصور کے سراسر خلاف ہے۔ امین اور امانت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ میرے پاس جو دین ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کے بندوں کی امانت ہے ۔ مجھے اس امانت کو بہر حال اس کے حق دار تک پہنچانا ہے۔ اگر میں اس فرض کو ادا کیے بغیر مر گیا تو میں خدا کے یہاں غیر امین قرار پاؤں گا اور عدم ادائیگی فرض کے جرم میں پکڑا جاؤں گا۔ مگر اقبال اس اندازِ پر نہیں سوچتے۔ ان کے لیے دعوت محض مسلم قومی سیاست کا ایک ضمیمہ ہے ، نہ کہ خود غیر مسلموں کے ایک حق کو غیر مسلموں تک پہنچانا۔ موجودہ زمانے میں یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ میں موجودہ زمانے کے معلوم اور معروف مسلمانوں میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں جانتا جو اس معاملے کو امانت کا معاملہ سمجھتا ہو۔ جو اس احساس سے بے تاب ہو گیا ہو کہ یہ خدائی امانت اگر میں نے خدا کے بندوں تک نہ پہنچائی تو خدا کے یہاں میرا کوئی انجام نہیں۔ نصح ! اور امانت کا مذکورہ جذبہ داعی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں غیر اقوام کے لیے یہ جذبہ موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے درمیان حقیقی دعوت کا عمل بھی زندہ نہ ہو سکا۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے موجودہ زمانے میں خدا کی نصرتوں کی بارش کو مسلمانوں کے اوپر سے روک رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader