Urdu book · راہِ عمل

سیف اللہ کا پیغام

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

سیف اللہ کا پیغام ایک ہندوستانی عالم نے شام کا سفر کیا۔ وہاں کے شہر حمص میں مشہور صحابی رسول خالد سیف اللہ کی قبر ہے۔ موصوف کی ایک تقریر حمص میں ہوئی۔ مذکورہ ہندوستانی بزرگ اپنی سوانح حیات (مطبوعہ 1983) میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حمص کے مرکز اخوان المسلمین میں 29 جولائی 1951 کو میری ایک ولولہ انگیز تقریر ہوئی۔ میں نے کہا کہ شام و حمص کے رہنے والوں، عالم اسلام کو اب پھر ایک سیف اللہ کی ضرورت ہے۔ کیا آپ عالم اسلام کو اس کی کھوٹی ہوئی تلوار مستعار دے سکتے ہیں۔“ (صفحہ 290) اس تقریر کو خطیبہ لفظی تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس کو رہنمائی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ عالم اسلام کی آج جو حالت ہے، اس میں کسی ”تلوار“ کو برآمد کرنا اس کے مسئلہ کا حل نہیں۔ یہ تلوار پہلے ہی اس کے پاس کافی مقدار میں موجود ہے۔ آج عالم اسلام کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تلوار نہیں، بلکہ خود خالد سیف اللہ کا وہ ”بے تلوار“ عمل ہے جو غزوہ موتہ (8ھ) کے موقع پر سامنے آیا تھا۔ ان کا یہ دوسرا عمل ہمارے آج کے حالات سے زیادہ متعلق (relevant) ہے۔ تاریخی رہنمائی کے سلسلے میں ہمیشہ یہ بات جاننے کی ہوتی ہے کہ ماضی کے جس واقعے کو رہنما واقعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ ہمارے آج کے لیے کتنا موزوں اور مناسب ہے۔ اس طرح کے معاملے میں صرف تاریخ کا واقعہ بیان کر دینا کافی نہیں بلکہ ماضی اور حال کے درمیان موزونیت (relevance) کو جاننا بھی لازمی طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page