سیف اللہ کا پیغام
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
ضروری ہے۔ تاریخ کوئی پوسٹج اسٹمپ نہیں جس کو میز کے خانے سے نکال کر کسی بھی لفافے پر چسپاں کر دیا جائے۔ صلح حدیبیہ کا وقفہ امن ملنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن حکمرانوں کے نام دعوتی خطوط بھیجے، ان میں سے ایک شرحبیل بن عمر و غسانی تھا۔ وہ قیصر روم کی طرف سے علاقہ شام کا حاکم تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد حضرت حارث بن عمیر جب یہ خط لے کر شرحبیل کے پاس پہنچے تو اس کے پڑھنے کے بعد شرحبیل اس قدر غضب ناک ہوا کہ اس نے حضرت حارث کو قتل کر دیا۔ قاصد رسول کا یہ قتل سراسر ظلم تھا۔ بین اقوامی آداب کے مطابق وہ مدینہ کی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف کارروائی ضروری سمجھی۔ آپ نے تین ہزار افراد کا ایک لشکر تیار کر کے شام کی طرف روانہ فرمایا۔ اس لشکر میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے۔ آپ نے حضرت زید بن حارثہ کو اس لشکر کا امیر مقرر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر زید بن حارثہ قتل ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر بنائے جائیں۔ اگر وہ بھی قتل ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ امیر لشکر ہوں۔ اگر وہ بھی قتل ہو جائیں تو اس کے بعد مسلمان جس کو چاہیں، اپنا امیر بنا لیں۔ یہ لوگ روانہ ہو کر شام کے ایک گاؤں تک پہنچے جس کا نام موتہ تھا۔ یہیں دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی ۔ دوسری طرف غسانیوں اور رومیوں کی تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔ اس انتہائی غیر مساوی مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے تین سردار زید بن حارثہ ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن ابی رواحہ ایک کے بعد ایک شہید ہو گئے۔ آخر میں حسب ہدایت رسول، مسلمانوں نے خالد بن الولید کو اپنا سردار مقرر کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader