سیف اللہ کا پیغام
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
خالد بن الولید نے غیر معمولی بہادری دکھائی۔ حتیٰ کہ اس دن ان کے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ مسلمانوں کے لشکر میں سے بارہ قیمتی جانیں ہلاک ہو گئیں۔ مگر جنگ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ شام کا اندھیرا چھا گیا اور دونوں فریق اپنے اپنے فوجی ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔ حضرت خالد نے غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ موجودہ حالت میں رومیوں سے جنگ جاری رکھنا بالکل بے فائدہ ہے۔ کیوں کہ دونوں کی تقابلی تعداد اور ان کی نسبتی طاقت ناقابل عبور حد تک غیر مساوی ہے۔ چنانچہ انہوں نے لڑائی کو چھوڑ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس کے لیے انہوں نے ایک نہایت پروقار جنگی تدبیر کی۔ انہوں نے اپنی فوج کو اس طرح ترتیب دیا کہ اس کے ایک حصہ کو سامنے کی طرف رکھا۔ اور اس کی ایک قابلِ لحاظ تعداد کو پیچھے جنگل کی آڑ میں چھپا دیا۔ صبح کا اجالا ہوا تو طے شدہ منصوبہ کے مطابق پیچھے چھپے ہوئے لوگ شور کرتے ہوئے اور نہایت بلند آواز سے نعرہ لگاتے ہوئے بڑھے اور آکراگلی فوج سے ملنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر رومی فوج نے سمجھا کہ مدینہ سے مسلمانوں کے لیے نئی فوجی مدد آگئی ہے۔ اب وہ مرعوب ہو کر مقابلہ کے میدان سے پیچھے ہٹ گئے تا کہ حالات کا جائزہ لیں اور اپنے آپ کو مزید تیار کر سکیں۔ حضرت خالد یہی چاہتے تھے۔ چنانچہ جیسے ہی رومی فوج پیچھے ہٹی، حضرت خالد نے اپنی فوج کو مدینہ کی طرف واپسی کا حکم دے دیا۔ پسپائی کا الزام فریق ثانی پر ڈال کر انہوں نے جنگ ختم کر دی۔ خالد بن ولید اور ان کے ساتھی جب موتہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو مدینہ کے کچھ مسلمانوں کو ان کی بغیر فتح واپسی ایک قسم کا فرار معلوم ہوئی۔ انہوں نے ان کے اوپر مٹی پھینکی اور مدینہ کی سرحد پر یہ کہہ کر ان کا استقبال کیا کہ اے بھاگنے والو، تم اللہ کے راستہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader