راہِ عمل
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
بھاگ آئے: یا فِرَّارُ، فَرَرْكُمْ فِي سَبِيلِ اللہِ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تردید کی اور فرمایا: لَيْسُوا بِالْفَرَّارِ، وَلَكِنَّهُمُ الْكَرَّارُ إِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالٰی۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 3، صفحہ 438) یعنی، وہ بھاگنے والے نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ نے چاہا تو وہ اقدام کرنے والے ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی غزوۂ مؤتہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کا لقب دیا تھا۔ گویا تلوار کو میان میں رکھ لینا وہ کارنامہ تھا جس کے بعد مذکورہ صحابی اللہ کی تلوار قرار پائے۔ مؤتہ کا سبق غزوۂ مؤتہ میں بارہ مسلمان قتل ہوئے اور نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ اس کو امیری لشکر نے اتنا سنگین سمجھا کہ فوج کی واپسی کا حکم دے دیا۔ کیوں کہ صورت حال کے مطابق، اس وقت جنگ کو جاری رکھنا بے فائدہ بن چکا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے ۔ موجودہ زمانے میں بالا کوٹ مارچ (1831) سے لے کر اجودھیا مارچ (1989) تک لاکھوں مسلمان مقابلہ آرائی میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور ساری دنیا کے لحاظ سے دیکھیے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔ اس درمیان میں جو بے شمار ”تلواریں“ ٹوٹی ہیں، ان کی تو کوئی گنتی ہی نہیں۔ اس کے باوجود کوئی نہیں جو اس بے فائدہ لڑائی کو روکنے کی بات کرے۔ ہر بولنے والا آدمی شمشیری زبان میں کلام کرنے کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔ آج واقعات بار بار بتا رہے ہیں کہ جنگ اور تصادم کا طریقہ مسلمانوں کے لیے سراسر لا حاصل ہے۔ اس کے باوجود نام نہاد مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر جگہ مسلمانوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader