موتہ کا سبق
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
لڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ وہ حمص اور دمشق کے مزارات سے خالد بن الولید اور صلاح الدین ایوبی کی تلوار برآمد کرنا چاہتے ہیں تاکہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی جاری رکھی جاسکے۔ اس الم ناک کہانی کا مزید الم ناک باب یہ ہے کہ تلوار کا یہ لفظی کارخانہ وہ لوگ چلا رہے ہیں جنہیں خود لڑنا نہیں ہے ۔ وہ اپنی ذمہ داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ولولہ انگیز تقریریں کریں۔ اور دوسروں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بے فائدہ طور پر لڑ لڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرتے رہیں ۔ کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جن کا حال حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ ہے کہ ”وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔“ (متی 4:23) حقیقت یہ ہے کہ آج خالد بن الولید کے اس حکیمانہ عمل کو دہرانے کا وقت ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے مؤتہ کے موقع پر کیا تھا۔ اگر موجودہ مسلمان ایسا کریں تو ممکن ہے کہ بعض ظاہر ہیں افراد ان پر بزدلی کا الزام لگائیں اور انہیں ”یا فُترار“ کہہ کر پکاریں۔ مگر یقین ہے کہ عین اسی وقت خدا اور رسول کی آواز یہ کہہ کر ان کے عمل کی تصدیق کر رہی ہوگی کہ : لَنَيسُوا بِالْفُرَّارِ، وَلَكِنَّهُمُ الكَرَّارِ إن شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مؤتہ کے موقع پر جن لوگوں نے رومیوں کے مقابلے میں تدبیری واپسی کا فیصلہ کیا تھا، انہی لوگوں نے بعد کو تیار ہو کر دوبارہ اقدام کیا اور نہ صرف غسانیوں کو بلکہ پوری رومی بادشاہت کو مٹا ڈالا اور اسلامی عظمت کی ایک نئی تاریخ پیدا کردی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان واپسی کے لیے تیار نہیں ہوئے، اس لیے کوئی تاریخی اقدام بھی ان کے لیے مقدر نہ ہوسکا۔ ”مؤتہ“ کے محاذ سے واپس آنے والے ہی دوبارہ ”مؤتہ“ کے محاذ کو فتح کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ ملت کی تاریخ میں صرف قبرستانوں کا اضافہ کریں گے، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader