دعوت کا میدان
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں ہمارے لکھنے اور بولنے والے کثرت سے دعوت اور داعیانہ مقام کے الفاظ لکھنے اور بولنے میں مصروف ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ہر ایک کے یہاں احتجاج اور فریاد، غصہ اور نفرت، حتیٰ کہ ٹکراؤ اور تصادم کی باتیں بھی پورے زور وشور کے ساتھ جاری ہیں۔ حالانکہ دونوں چیزوں میں اتنا زیادہ دوری ہے کہ جہاں ایک چیز ہو وہاں کبھی دوسری چیز جمع نہیں ہوسکتی۔ اس تضاد اور ذہنی انتشار کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے یہاں دعوت ان کی قومی مہم کے ضمیمہ کے طور پر آئی، نہ کہ حقیقتاً پیغمبرانہ ذمہ داری کے طور پر۔ مسلمان ایک سوسال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے احساس شکست میں جی رہے تھے۔ اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف ان کی تمام لڑائیاں یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی بربادی پر ختم ہورہی تھیں، وہ محسوس کر رہے تھے کہ دوسری قوموں نے انہیں علمی، تہذیبی، اقتصادی، سیاسی، ہر اعتبار سے بہت زیادہ پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ایسی حالت میں کچھ مسلمانوں کو اسلام کی نظریاتی برتری میں اپنی قومی نجات نظر آئی۔ وہ دعوت اور داعی کے الفاظ بول کر یہ تسکین حاصل کرنے لگے کہ ہم دوسری قوموں سے پیچھے نہیں ہیں، بلکہ ان سے بہت آگے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک طبقے میں دعوت کا جو رجحان پیدا ہوا ہے، وہ حقیقتاً داعیانہ ذہن کے تحت نہیں بلکہ قومی ذہن کے تحت پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے دعوت کی صورت میں اپنے فخر (pride) کو دریافت کیا ہے۔ انہوں نے دعوت کی صورت میں اپنی ذمہ داری (responsibility) کو دریافت نہیں کیا جو دعوت کا اصل خلاصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ جب دعوت کے موضوع پر بولتے ہیں تو ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو ریوولیوشن اور ریٹڈ (revolution-oriented) ہونا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader