Urdu book · راہِ عمل

داخل کے بجائے خارج

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

بظاہر ”کوٹ پتلون پہنتے ہوں مگر ان کے دلوں میں اسلام کے لیے نرم گوشہ موجود تھا۔ یہ ایک زبردست امکان تھا جس کو استعمال کر کے آزاد شدہ مسلم ممالک میں اسلام کے نئے دور کا آغاز کیا جا سکتا تھا۔ مگر مسلمانوں کے دینی رہنماؤں نے ہر جگہ صرف مواقع کو برباد کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ وہ کہیں بھی مواقع کو استعمال کرنے کی لیاقت کا ثبوت نہ دے سکے۔ اس کی واحد وجہ یہی تھی کہ وہ ”اتباع سبل“ کے طریقے پر دوڑتے رہے، وہ ”اتباع صراط“ کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ اس سلسلے میں مصر اور پاکستان کی مثال لیجیے ۔ مصر میں شاہ فاروق کی حکومت ختم ہونے کے بعد فوجی افسر برسرِ اقتدار آئے۔ ان فوجی افسروں کے دل میں اسلام کی گہری ہمدردی موجود تھی۔ انھوں نے وہاں کی دینی جماعت (الاخوان المسلمون) کو ملک کی وزارتِ تعلیم کی پیش کش کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ملک کے تعلیمی نظام کو اپنے ہاتھ میں لے کر جدید نسل کی تربیت کیجیے اور یہاں اسلام کے لیے ایک نئے مستقبل کی داغ بیل ڈالیے۔ مگر مصر کی دینی جماعت کے رہنما اس پیش کش کو قبول نہ کر سکے۔ اس کے برعکس، انھوں نے خود فوجی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی لاحاصل کوشش شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دینی رہنماؤں اور فوجی حکمرانوں میں ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ تمام بہترین مواقع برباد ہو کر رہ گئے۔ یہی صورت حال پاکستان میں پیش آئی۔ پاکستان کے سابق حکمراں جنرل محمد ایوب خاں نے وہاں کی دینی جماعت (جماعت اسلامی پاکستان) کو پیش کش کی کہ آپ لوگ ایک انٹرنیشنل معیار کی اسلامی یونیورسٹی بنائیے۔ اس کا سارا خرچ حکومت فراہم کرے گی۔ حکومت کی اس پیشکش کو قبول کر کے وہاں کے دینی رہنما ایک نئی مسلم نسل تیار کر سکتے تھے جو دور جدید میں اسلام کے احیاء کا کام کر سکے۔ مگر پاکستان کے دینی رہنما دوبارہ اس مہم میں لگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page