Urdu book · راہِ عمل

ایک مثال

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

گئی ۔ 1881ء کے اسلامی جہاد کا نشانہ خدیو اسماعیل پاشا تھا۔ اور 1952ء کے ”اسلامی جہاد“ کا نشانہ شاہ فاروق الاول تھا۔ پہلے جہاد کے قائد عُرابی پاشا تھے اور ان کے ساتھ مفتی محمد عبدہ، اور ان کی جماعت شریک تھی۔ دوسرے جہاد کے قائد جمال عبد الناصر تھے اور سید قطب اور ان کی جماعت حامیِ انقلاب بن کر ان کے ساتھ شریک ہو گئی۔ مگر جو انجام پہلے جہاد کا ہوا تھا، عین وہی انجام دوسرے جہاد کا بھی ہوا۔ ان دونوں کوششوں میں ظاہری اعتبار سے بعض فرق تھے۔ مگر جہاں تک ”اسلامی مجاہدین“ کا تعلق ہے، دونوں مواقع پر ان کا بالکل یکساں انجام ہوا۔ غیر اسلامی عناصر دونوں بار غالب رہے اور مسلم مجاہدین دونوں بار مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو کر رہ گئے۔ یہی کہانی زیادہ بری شکل میں پاکستان میں دہرائی گئی ہے۔ پاکستان میں سابق صدر جنرل محمد ایوب خان کو اسلام کی راہ میں اصل رکاوٹ سمجھ لیا گیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے اسلام پسند ساتھی تنہا اپنی طاقت سے اس رکاوٹ کو دور نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دوسری طاقتوں کو ساتھ لے کر ایوب خاں کو تخت سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی ۔ اس مہم کو وہ اتنا زیادہ ضروری سمجھتے تھے کہ ایوب خاں کے مقابلے میں انہوں نے ایک خاتون کو صدر کی حیثیت سے کھڑا کیا۔ حالانکہ حدیث میں واضح طور پر موجود ہے کہ کوئی خاتون حکمران کسی ملک یا قوم کی فلاح کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4425) مگر جب یہ مہم کامیاب ہوئی تو صدر ایوب کی جگہ دوسرے ”اسلام دشمن افراد“ ملک کے حکمراں بن چکے تھے۔ یہی مہم دوبارہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف شروع کی گئی۔ اسلام پسندوں اور غیر اسلام پسندوں کی متحدہ کوشش سے مسٹر بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ مگر اس کے باوجود ”غیر اسلام“ کو پھانسی پر چڑھانا ممکن نہ ہوسکا۔ وہ بھٹو کے خاتمہ کے بعد بھی پاکستان میں پوری طرح زندہ ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page