ایک مثال
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا: اَلْمُؤْمِنُ لَا يَلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ ۔ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 6133) اس لحاظ سے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ مسلم رہنما ایک ہی غلطی کو بار بار دہراتے رہیں۔ مگر مذکورہ مثالیں حیرت انگیز طور پر بتاتی ہیں کہ وہ ایک ہی سیاسی بل سے بار بار ڈسے جا رہے ہیں۔ وہ ایک ہی ناکام سیاسی تجربے کو بار بار دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ خدا کے دین کی یہ کیسی عجیب عملی تفسیر ہے جس کو موجودہ زمانے کے مسلم رہنما دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اگر وہ کرنا نہیں جانتے تو کیا وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کچھ نہ کریں ۔ اگر انہیں بولنا نہیں آتا تو کیا انہیں یہ بھی نہیں آتا کہ وہ اپنی زبانوں کو بند رکھیں۔ آہ وہ لوگ، جنہیں کرنا نہیں آتا۔ پھر بھی وہ کرتے ہیں۔ جنہیں بولنا نہیں آتا پھر بھی وہ بولتے ہیں، صرف اس لیے کہ جو مواقع کار ابھی باقی ہیں وہ سبھی باقی نہ رہیں، یہاں تک کہ نہ کسی کے لیے کرنے کا کچھ موقع ہو اور نہ کچھ بولنے کا۔ موعودہ کا مقصود قرآن کی سورۃ نمبر 24 میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت کا ذکر اس طرح کیا ہے ـــ تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، ان سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ (با اقتدار) بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے اقتدار دیا تھا۔ اور اللہ ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان کے لیے اس نے پسند کیا ہے۔ اور اللہ ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ (24:55)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader