موعود نہ کہ مقصود
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار یا غلبہ ایک امرِ موعود ہے، نہ کہ امرِ مقصود۔ یعنی وہ اہلِ اسلام کے عمل کا نشانہ نہیں ہے۔ اہلِ اسلام کے لیے ان کے عمل کا نشانہ تو ایمان اور عملِ صالح ہے۔ ان کی اپنی توجہ شروع سے آخر تک اسی پر مرتکز رہنا چاہیے۔ البتہ جب اہلِ اسلام یہ شرط پوری کر دیں۔ وہ ایمان والی نفسیات اور عملِ صالح والی زندگی کے ساتھ دنیا میں رہنے لگیں تو اللہ اگر چاہتا ہے تو ان کو ایک ملک یا زیادہ ملک میں حکومت وسلطنت بھی دیدیتا ہے۔ اہلِ اسلام کی ذمہ داری ایمان اور عملِ صالح کی زندگی اختیار کرنا ہے۔ اس کے حقیقی اور ابدی انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں کے اندر داخل فرمائے گا، تاہم اس کے ابتدائی انعام کے طور پر وہ انہیں دنیا میں بھی غلبہ عطا کر دیتا ہے، اگر وہ چاہے۔ اس آیت میں جس اسلامی عمل اور جس خدائی انعام کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا نمونہ دورِ اول میں انتہائی کامل اور تاریخی صورت میں قائم کر دیا گیا ہے۔ اب جو شخص اس آیت کو یا اس آیت میں بیان کردہ قانونِ الٰہی کو سمجھنا چاہیے، اس کو اسلام کے دورِ اول کی تاریخ پڑھنا چاہیے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے وہ بخوبی طور پر جان سکتا ہے کہ ایمان اور عملِ صالح کیا ہے، اور مومنینِ صالحین کو خلیفہ (با اقتدار) بنانا کیا۔ ایمان اور عملِ صالح کا وہ کون سا کردار تھا جس کا ثبوت دورِ اول کے اہلِ اسلام نے دیا اور جس کے بعد ان کے لیے خلافت (اقتدار) کے دروازے کھلے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اسلام کے اس دور کا مطالعہ کرنا چاہیے جس کو مکی دور کہا جاتا ہے۔ مدنی دور کو اگر ’’خلافت‘‘ کا دور کہا جائے تو مکّی دور گویا ’’ایمان اور عملِ صالح‘‘ کا دور تھا۔ یہی دورِ اول تھا جس نے ان کے لیے دورِ ثانی کا استحقاق پیدا کیا۔ مکی دور کیا تھا مکّی دور شعوری انقلاب کا دور تھا۔ اس وقت جو لوگ ایمان لائے، ان کے لیے ایمان ایک عظیم الشان قربانی تھی۔ انہوں نے اپنے میں سے اور اپنے جیسے ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader