Urdu book · راہِ عمل

موعود نہ کہ مقصود

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

شخص کو اس کے اندرونی جوہر کی بنا پر پہچان کر یہ اقرار کیا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے۔ کسی غرض اور مفاد کے بغیر، خالص اصول کی خاطر، وہ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ انہوں نے مکمل طور پر اپنے آپ کو با مقصد انسان ثابت کیا۔ انہوں نے ایک خدا کی پرستش کی۔ انہوں نے ایک ان دیکھے خدا کو اپنا سب بنا لیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو قومی اکابر کی عظمت کے خول سے نکالا اور خدائے واحد کی عظمت میں اپنے آپ کو گم کر دیا۔ انہوں نے اپنی ساری توجہ اور سارے جھکاؤ کو صرف خدا کے لیے خاص کر دیا۔ وہ خدا کے لیے جئے اور خدا ہی کی راہ میں اپنی جان دی۔ انہوں نے اپنے ماحول میں اعلیٰ اخلاق کا ثبوت دیا۔ وہ لوگوں کے خیر خواہ بنے، چاہے وہ ان کے ساتھ بدخوہی کریں۔ انہوں نے لوگوں کی امانتیں پوری پوری ادا کیں، خواہ لوگ ان کے ساتھ خیانت کا معاملہ کر رہے ہوں۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاقی سلوک کیا، خواہ وہ ان کے ساتھ کتنی ہی زیادتیات کیوں نہ کریں۔ انہوں نے اس اعلیٰ عمل کا ثبوت دیا جس کو یک طرفہ اخلاق اور یک طرفہ صبر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہیں کی، بلکہ ان کے حق میں دعائیں دیں۔ لوگوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ان سے انصاف اور حق پرستی کے مطابق معاملہ کیا۔ وہ صرف اچھوں کے لیے اچھے نہیں بنے بلکہ بروں کے ساتھ بھی انہوں نے نیکی اور بھلائی کی روش اختیار کی۔ انہوں نے جوابی اخلاق کے بجائے یک طرفہ حسن اخلاق کو اپنا طریقہ بنایا۔ انہوں نے اپنے مسلسل عمل سے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اپنے مخالفین کے معاملے میں بھی انصاف پر قائم رہنے والے ہیں۔ دوسروں کو تولنے کے لیے بھی ان کے پاس وہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page