Urdu book · راہِ عمل

چالیس سالہ انتظار

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

چالیس سالہ انتظار قرآن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے — موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ اور اپنی پیٹھ کی طرف نہ لوٹو، ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ایک زبردست قوم ہے۔ ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے۔ دو آدمی جو اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اور ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، انہوں نے کہا کہ تم ان پر اقدام کر کے شہر کے پھاٹک میں داخل ہو جاؤ۔ جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے ۔ اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ہم کبھی وہاں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں ہیں۔ پس تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب، اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر میرا اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی کر دے ۔ اللہ نے کہا کہ وہ ملک ان پر چالیس سال کے لیے حرام کر دیا گیا۔ یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تم اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کرو۔ (المائدہ، 26-5:21) یہ واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بائبل (گنتی، استثنا، یشوع) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بائبل کے علما کے مطابق، حضرت موسیٰ 1440 ق م میں بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ وہاں انہوں نے خدا کے حکم کے تحت بنی اسرائیل سے یہ بات کہی کہ شام فلسطین کی زمین خدا نے تمہارے لیے مقدر کی ہے۔ تم اقدام کر کے وہاں داخل ہو جاؤ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page