Urdu book · راہِ عمل

چالیس سالہ انتظار

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

اس علاقے میں اس وقت عمالقہ (Amalekites) کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل ان سے ڈر رہے تھے۔ چنانچہ وہ اقدام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے علاوہ صرف دو آدمی ایسے تھے جنہوں نے اٹھ کر اس اقدام کی تائید کی۔ بائبل میں ان کا نام یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا بتایا گیا ہے۔ بنی اسرائیل نے جب اس معاملے میں پست ہمتی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالی نے عمالقہ کے ملک میں داخلے کے منصوبے کو چالیس سال تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ بنی اسرائیل کے متعلق خدا کا حکم ہوا کہ ”تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی۔ اور تمہاری ساری تعداد میں سے بیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے، ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا، جانے نہ پائے گا۔“ (گنتی 30: 14-29) اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام زیادہ عمر کے لوگ ختم ہو جائیں، اور صرف وہ نئی نسل باقی رہے جو سینا کے صحرائی ماحول میں پرورش پا کر بڑی ہوئی ہے، اس وقت وہ عمالقہ کے اوپر جہاد کریں اور خدا کی مدد سے کامیابی حاصل کریں۔ خدا کے اس حکم کے مطابق بنی اسرائیل صحرا میں پھرتے رہے۔ یہاں تک کہ تقریباً چالیس سال میں جب ایسا ہوا کہ پرانی نسل ختم ہو گئی اور نئی نسل بن کر تیار ہوگئی تو انہوں نے عمالقہ کے ملک (شام و فلسطین) میں جہاد کیا۔ یہ جہاد 1400 ق م میں مذکورہ یوشع بن نون کی قیادت میں انجام پایا۔ اور اللہ کی مدد سے کامیاب ہوا۔ اس واقعے پر غور کیجیے۔ اللہ تعالی کی براہ راست وحی کے تحت جہاد کا ایک حکم سامنے آتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس پر عمل کو چالیس سال تک کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ جن لوگوں کو جہاد کرنا تھا، ان کے اندر جہاد کی استعداد ثابت نہ ہوسکی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page