راہِ عمل
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
گئے کہ وہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کریں۔ نتیجہ دوبارہ یہی ہوا کہ تمام بہترین تعمیری امکانات باہمی ٹکراؤ میں برباد ہوگئے اور بالآخرملت کے حصے میں کچھ بھی نہ آیا۔ کلیات کے بجائے جزئیات اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کلیات اور دوسرے جزئیات۔ شریعت کے کلی احکام واضح نصوص پر مشتمل ہیں۔ اس لیے ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ شریعت کے اس پہلو پر تمام فقہاء یکساں طور پر متفق ہیں۔ مگر جزئیات کے شرع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس لیے شریعت کے اس حصے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ فجر کی نماز دو رکعت، ظہر کی نماز چار رکعت اور مغرب کی نماز تین رکعت ہے۔ مگر نماز کے بعض جزئی مسائل مثلاً آمین ، رفع یدین اور قرآت فاتحہ خلف الامام کے معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کے درمیان جو مختلف فقہی مکاتب بنے ان کے الگ الگ ہونے کی بنیاد دراصل یہی اختلافی جزئیات تھیں۔ کلی نوعیت کے احکام میں الگ الگ فقہی مکتب بننے کا کوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ ان امور میں ایک فقیہ اور دوسرے فقیہ کی رائے میں کوئی فرق ہی نہیں۔ ایک فقہی مکتب کو دوسرے فقہی مکتب سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ دراصل اختلافی مسائل ہیں، نہ کہ اتفاقی مسائل۔ موجودہ زمانے میں ہندوستان میں جو دینی مدارس قائم ہوئے وہ کسی ایک یا دوسرے فقہی مکتب فکر کے تحت قائم ہوئے۔ مثلاً کوئی مدرسہ دیوبندی مسلک کے تحت قائم ہوا اور کوئی بریلوی مسلک کے تحت اور کوئی سلفی مسلک کے تحت۔ ان مسالک کو جو چیز ایک دوسرے سے ممیز کرتی ہے وہ یہی اختلافی مسائل ہیں، نہ کہ اتفاقی مسائل۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوا کہ ہر مدرسے میں سب سے زیادہ زور اختلافی مسائل پر دیا جانے لگا۔ ہر مدرسے کا مقصد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader