Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

کی توہین کی۔ اسی طرح مومن ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آدمی ”خدائی فوجدار بن کر کھڑا ہو جائے اور حکمرانوں کے خلاف اپوزیشن کا پارٹ ادا کرنے کو اسلام کا کمال سمجھنے لگے۔ اس قسم کی چیزیں اسلام نہیں، وہ خود ساختہ سیاست کو اسلام کا نام دینا ہے۔ پہلی قسم کے لوگ اگر دین کی کم قدری کے مجرم ہیں تو دوسری قسم کے لوگ دین کی تحریف کے۔ اور یہ دونوں ہی چیزیں آدمی کو خدا کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہیں، نہ کہ خدا کے انعام کا۔ مومن وہ ہے جس کے سینے میں اسلام ایک نفسیاتی طوفان بن کر داخل ہوا ہو۔ جو خدا کو اتنا قریب پائے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں جاری ہو جائیں۔ جس کی تنہائیاں خدا کے فرشتوں سے آباد رہتی ہوں۔ جس کے اسلام نے اس کی زبان میں خدا کی لگام دے رھی ہو۔ اور جس کے ہاتھوں اور پیروں میں خدا کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہوں۔ جس کے اسلام نے اس کو حشر کی آمد سے پہلے حشر کے میدان میں کھڑا کر دیا ہو، حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ کافر پر مرنے کے بعد گزرنے والا ہے وہ مومن پر جیتے جی اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔ دوسرے لوگ جن باتوں کو اس وقت پائیں گے جب کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آجائے گا، مومن ان باتوں کو اس وقت پا لیتا ہے جب کہ خدا ابھی غیب کے پردہ میں چھپا ہوا ہے۔ مومن پر قیامت سے پہلے قیامت گزر جاتی ہے جب کہ دوسروں پر قیامت اس وقت گزرے گی جب کہ وہ عملاً آچکی ہوگی۔ اسلامی دعوت آگ کا انگارہ جب خارج کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے تو اسی کو ہم آنچ کہتے ہیں۔ برف کا تو دہ جب اپنے ماحول کو اپنی حقیقت سے متعارف کرتا ہے تو اسی کو ٹھنڈک کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا بھی ہے۔ زمین پر کسی مومن کا وجود میں آنا خود ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلامی دعوت ضرور وجود میں آئے گی۔ کسی نفس انسانی میں جب وہ خدائی بھونچال آتا ہے جس کو اسلام کہا گیا ہے تو اس کے بعد لازمی نتیجے کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے باہر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page