Urdu book · راہِ عمل

اسلامی دعوت

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

کی دنیا اس سے باخبر ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ یہی اسلامی دعوت کا آغاز ہے ۔ اسلامی دعوت فرد انسانی میں انقلاب لانے کی دعوت ہے ، نہ کہ کسی قسم کے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ میں اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی ۔ اسلامی انقلاب اصلاً ایک نفسیاتی انقلاب ہے اور نفسیاتی انقلاب کسی نفس ہی کے اندر وقوع میں آسکتا ہے ۔ نفس کا وجود صرف ایک فرد میں ہوتا ہے اس لیے اسلام کی گھٹنا بھی ایک فرد ہی میں گھٹتی ہے ۔ قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کا اپنا کوئی نفسیاتی وجود نہیں۔ اس لیے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنانا ایسا ہی ہے جیسے خالی فضا میں تیر مارنا۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی گروہ کے قومی حالات یا کسی جغرافیہ کے تمدنی احوال لوگوں میں ہلچل پیدا کرتے ہیں اور اس کے بعد ان کے درمیان ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کے اندر ان کے قومی یا سیاسی حالات کے نتیجہ میں کوئی حرکت اٹھ کھڑی ہو تو اس کا نام اسلامی تحریک نہیں ہو جائے گا۔ اگر مسلمان اپنے قومی دشمن سے تصادم کو جہاد کہیں یا اپنی قومی تعمیر کو اسلامی نظام کی اصطلاحوں میں بیان کریں تو یہ اسلام نہیں بلکہ غیر اسلام کو اسلام کا نام دینا ہے، جو آدمی کو صرف سزا کا مستحق بناتا ہے، نہ یہ کہ اس کی بنا پر آدمی کو کوئی اسلامی انعام دیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی اسلامی تحریکیں عظیم الشان پیمانے پر اٹھیں مگر عملاً وہ اس طرح بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں جیسے خدا کے نزدیک ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کے سب قومی ہنگامے ہیں اور کسی قوم کے قومی ہنگاموں کا نام اسلام نہیں۔ اسلامی دعوت کی تحریک ایک لفظ میں جنت کی طرف بلانے کی تحریک ہے۔ جنت خدا کی لطیف و نفیس دنیا ہے جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اخلاق خداوندی کی سطح پر جئے ہوں، جنہوں نے دنیوی تعلقات میں کمال انسانیت کا ثبوت دیا ہو، جو خدا کی ابدی دنیا سے اثر لے کر متحرک ہوئے ہوں، نہ کہ سیاسی اور معاشی حالات کے اثر سے۔ آج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page