اسلامی دعوت
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
کی دنیا میں اسی کا چناؤ ہو رہا ہے۔ جولوگ اپنی نفسیات اور کردار کے اعتبار سے جنتی ماحول میں بسانے کے قابل ٹھہریں گے ان کو چھانٹ کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ تمام لوگ خدا کی رحمتوں سے محروم کر کے دور پھینک دیے جائیں گے تا کہ ابدی طور پر تاریکیوں کے غار میں بھٹکتے رہیں۔ انسان کے سوا بقیہ دنیا بے حد حسین ہے۔ ہرے بھرے درختوں اور نرم و نازک پھولوں کو دیکھیے ، زمین و آسمان کے قدرتی مناظر کا معائنہ کیجیے۔ ان کی بے پناہ کشش آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے گی کہ ان سے نظر ہٹانے کا جی نہ چاہے گا۔ مگر اس کے مقابلہ میں انسانی دنیا ظلم اور گندگی کا کوڑاخانہ بنی ہوئی ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ دنیا کی سطح پر خدا کی مرضی براہ راست اپنی پوری شکل میں نافذ ہے، یہ دنیا ویسی ہی ہے جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ ہو۔ اس کے برعکس ، انسان کو خدا نے آزادی دے دی ہے۔ اسی آزادی کے غلط استعمال نے انسانی دنیا کو جہنم کدہ بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام خوبیوں کا مالک صرف خدا ہے۔ خدا جہاں اپنے اختیار کو روک لے وہیں سے جہنم شروع ہو جاتی ہے اور خدا جب اپنے اختیار کو نافذ کر دے تو اسی کا نام جنت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ خدا نے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا کہ انسان کو آزادی دے دی کہ وہ خدا کی حسین دنیا کو اپنی باغیانہ کارروائیوں سے عذاب خانہ بنا دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر وہ قیمتی انسان چنے نہیں جاسکتے تھے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ خدا کی وسیع دنیا اپنی ان گنت چیزوں کے ساتھ مکمل طور پر خدا کی اطاعت گزار ہے۔ حقیر چیونٹی سے لے کر عظیم کہکشانی نظاموں تک کوئی چیز بھی نہیں جو خدا کی مرضی سے ادنی انحراف کرتی ہو۔ تاہم یہ تمام چیزیں اس لیے محکوم ہیں کہ وہ بے اختیار ہیں۔ فرماں برداری کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اب خدا کو ایسی با شعور اور حقیقت پسند

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader