Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ قرار پایا کہ وہ دوسرے مسلک کے بالمقابل اپنے مسلک کو قرآن و سنت سے صحیح ثابت کرے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا سارا تعلیمی نظام اختلافی جزئیات کے گرد گھومنے لگا ۔ مثال کے طور پر ہماری موجودہ درس گاہوں کا یہ حال ہے کہ وہاں جب حدیث پڑھائی جاتی ہے تو توحید اور آخرت سے متعلق حدیثوں سے استاد اور شاگرد بالکل سرسری گزر جاتے ہیں ۔ اور جہاں کوئی ایسی حدیث آگئی جس میں ایک مسلک اور دوسرے مسلک کے درمیان اختلاف کا پہلو پایا جاتا ہو وہاں استاد زبردست مہارت دکھاتا ہے ، حتیٰ کہ بعض اوقات اس پر ایک ایک ہفتے تک بحث ہوتی رہتی ہے ۔ اس تعلیمی نظام سے جو لوگ تربیت پا کر نکلتے ہیں قدرتی طور پر ان کے ذہن پر کلیات شریعت سے زیادہ جزئیات شریعت کا غلبہ رہتا ہے ۔ وہ انہی اختلافی جزئیات میں اپنے مسلک کو برتر ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ اس کا بدترین انجام موجودہ زمانے میں یہ نکلا ہے کہ یورپ ، امریکہ میں مقیم مسلمانوں نے ان علماء کو بطور امام اور مدرس بلایا تو وہاں پہنچ کر بھی انھوں نے یہی تمام جھگڑے چھیڑ دیے ۔ ہمارے علماء کے لیے یورپ اور امریکہ پہنچنا اس کا وسیلہ نہ بن سکا کہ وہ ان ملکوں میں اسلامی دعوت کا کام کریں ۔ وہ وہاں بھی وہی کرتے رہے جس کی مہارت انہوں نے اپنی درس گاہوں میں حاصل کی تھی ۔ یعنی جزئی اختلافی امور پر مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا ۔ سبب کے بجائے مرض 1985-86ء میں ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی حالیہ تاریخ کی غالباً سب سے بڑی تحریک چلائی ۔ یہ تحریک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحت چلائی گئی جس میں مسلمانوں کے تمام اکابر اور ان کی تمام تنظیمیں شریک تھیں ۔ اس میں غالباً صرف ایک ہی قابل ذکر استثنا تھا اور وہ تبلیغی جماعت کا تھا۔ تبلیغی جماعت بحیثیت جماعت اس مہم سے الگ رہی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page