اسلامی دعوت
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
مخلوق درکار تھی جو اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہو جائے۔ جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو خدا کا محکوم بنالے۔ یہی وہ انتہائی نادر ہستیاں ہیں جن کو چھانٹنے کے لیے خدا کا یہ عظیم کارخانہ آباد کیا گیا ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے لے کر آج تک انسانی ذہن کو جو چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی رہی ہے وہ انسان کی دنیا میں خرابی کا مسئلہ (problem of evil) ہے۔ ایک مفکر کے الفاظ میں ساری انسانی تاریخ ظلم اور برائی کا رجسٹر معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنی آزادی کا انتہائی ظالمانہ استعمال کرتا ہے۔ مگر اتنی بڑی برائی کو خدا نے صرف اس لیے گوارا کیا کہ اس کے بغیر اس اعلیٰ نوع کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا تھا جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ اختیار اور آزادی کے ماحول ہی میں وہ انسان چنے جاسکتے ہیں جن کے متعلق خدا کے نگراں فرشتے یہ گواہی دیں کہ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے مکمل اختیار رکھتے ہوئے اپنے کو خدا کی خاطر بے اختیار کر لیا تھا۔ دنیا کی بے پناہ برائیاں دراصل ایک بے پناہ بھلائی کی قیمت ہیں۔ یہ بھلائی کہ انسانوں کے جنگل سے وہ سعید روحیں چھان کر نکالی جائیں جو پورے شعور اور مکمل ارادے کے ساتھ اپنے کو خدا کا محکوم بنالیں۔ جو محض حقیقت پسندی کی بنا پر خدا کی محکومی اختیار کریں، نہ کہ مجبوری کی بنا پر۔ یہ وہ انوکھی ہستیاں ہیں جن کو یہ موقع تھا کہ وہ حق کو جھٹلا دیں مگر انہوں نے حق کو نہیں جھٹلایا۔ جن کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی انا کا جھنڈا اونچا کریں۔ مگر وہ اپنے کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خدا کو صدر نشین بنانے پر راضی ہو گئے۔ جن کو پوری طرح یہ آزادی ملی ہوئی تھی کہ وہ اپنی قیادت اور اپنے مفادات کا گنبد کھڑا کریں مگر انہوں نے ہر ’’اپنے‘‘ کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈھاد یا اور صرف حق کا گنبد کھڑا کر کے انہوں نے خوشی حاصل کی۔ اس قسم کی نادر روحیں اس کے بغیر چنی نہیں جاسکتی تھیں کہ ان کو مکمل آزادی کے ماحول میں رکھا جائے اور آزادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader