راہِ عمل
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
کا حقیقی ماحول قائم کرنے کی ہر قیمت برداشت کی جائے۔ اسلامی دعوت کا مقصد ایسی ہی روحوں کو تلاش کرنا ہے۔ اسلامی انقلاب دنیا میں سیاسی اور تمدنی انقلاب اسلامی دعوت کا براہِ راست نشانہ نہیں۔ تاہم وہ اس کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ کسی معاشرے میں جب قابلِ لحاظ تعداد ایسے افراد کی جمع ہو جائے جو اللہ کے لیے جینا اور اللہ کے لیے مرنا چاہتے ہوں تو قدرتی طور پر وقت کی سیاست اور تمدن پر انہیں کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست یا اسلامی نظام نام ہے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کا جو اللہ کے آگے اپنے کو بے نفس کر چکے ہوں۔ جنہوں نے اپنی ”میں“ کو خدا کے عظیم تر ”میں“ میں گم کر دیا ہو۔ جن کے جذبات و احساسات آخرت سے اتنا زیادہ متعلق ہو جائیں کہ دنیا میں ان کا کوئی حوصلہ باقی نہ رہے جو دوسرے کے دل کے درد کو اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوں۔ ایسے ہی افراد اسلامی نظام قائم کرتے ہیں اور ایسے افراد اسی وقت بنتے ہیں جب کہ ہر قسم کے دنیوی مقصد سے بلند ہو کر خالص آخرت کے لیے تحریک چلائی جائے۔ اس کے برعکس اگر نعروں اور جلسوں کے زور پر کوئی انقلاب برپا کیا جائے تو وہ انقلاب نہیں ایک ہڑبونگ ہو گا جہاں اسلام کے نعرے تو بہت ہوں گے مگر اسلام کے عمل کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ ایسے لوگ حق کے تقاضوں کا نام لیں گے مگر عملاً اپنے گروہ کے تقاضوں کے سوا کوئی چیز ان کے سامنے نہ ہوگی۔ وہ انقلاب اسلامی کے ہنگامے برپا کریں گے حقیقتاً ان کا مدعا یہ ہو گا کہ دوسروں کو تخت سے ہٹا کر خود اس پر قابض ہو جائیں۔ وہ انسانیت اور اخلاق کے نام پر جلسوں اور تقریروں کی دھوم مچائیں گے مگر اس کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ ایک خوبصورت عنوان پر اپنی قیادت کی شان قائم کریں۔ اسلامی انقلاب کی واحد لازمی شرط ”بے میں“ انسانوں کی فراہمی ہے اور موجودہ طرزِ تحریکوں سے سب سے کم جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ یہی ہے۔ بلکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader