Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاسی اور قومی انداز کی یہ تحریکیں تو ”میں“ کی غذا ہیں ، نہ کہ ”میں“ کی نفسیات کو ختم کرنے والی — خارجی انقلاب کو نشانہ بنانے والی تحریک افراد کے اندر کردار نہیں پیدا کر سکتی ۔ کردار ہمیشہ ذاتی محرک سے پیدا ہوتا ہے ، نہ کہ خارجی محرک سے ۔ کوئی آدمی دوسرے کے لیے نہیں کماتا ، اسی طرح کوئی آدمی بیرونی محرّک کے لیے با کردار بھی نہیں بنتا ۔ جو لوگ ”نظام“ کے نام پر افراد سے با کردار بننے کی اپیلیں کرتے ہیں وہ صرف اپنی سطحیت کا ثبوت دیتے ہیں اور دوسرے کے بارے میں کمتر اندازے کا ۔ پیغمبر کا کام اسلام کا مشن ایک ہی مشن ہے ۔ اور وہ ہے توحید کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ۔ ایک ایک شخص کو موحد بنانے کی کوشش کرنا ۔ یہی قدیم ترین زمانہ سے تمام نبیوں کا مشن تھا ۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام زمانوں میں توحید کی دعوت جان کی قربانی کی قیمت پر دینی ہوتی تھی ۔ توحید کا پیغام لے کر اٹھنے والے آگ کے الاؤ میں ڈال دیے جاتے اور آروں سے چیر دیے جاتے ۔ اس کی وجہ کیا تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانے میں شرک کو فکری غلبے کا مقام حاصل تھا ۔ حتیٰ کہ سیاست کی بنیاد بھی شرک پر قائم تھی ۔ قدیم زمانے کے بادشاہ ، لوگوں کو یہ باور کرا کے ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں ۔ ان کے اندر خدا حلول کر آیا ہے ۔ اس لیے جب توحید کا داعی یہ آواز بلند کرتا کہ خدا صرف ایک ہے ، کوئی اس کا شریک نہیں ، تو قدیم زمانے کے بادشاہوں کو یہ آواز براہ راست ان کے حق حکمرانی کو چیلنج کرنے والی نظر آتی تھی ۔ اس میں انہیں اپنی مشرکانہ سیاست کی تردید دکھائی دیتی تھی ۔ چنانچہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی بنا پر توحید کے داعیوں کے دشمن بن جاتے اور بے رحمی کے ساتھ ان کو کچل دیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اس صورت حال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے ۔ قرآن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page