Urdu book · راہِ عمل

پیغمبر کا کام

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

میں پیغمبر آخرالزمان اور آپ کے ساتھیوں کو سکھایا گیا کہ تم اس طرح دعا کرو: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا۔ (2:286) خدایا ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے کے لوگوں پر ڈالا تھا۔ یہ دعا کے انداز میں اس خدائی فیصلے کا اظہار تھا کہ خدا انسانی تاریخ میں ایک نیا انقلاب لانے والا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اقتدار کا رشتہ شرک سے ٹوٹ جائے گا۔ اب حکومت ایک خالص سیاسی معاملہ ہوگا، نہ کہ اعتقادی معاملہ۔ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کی تکمیل کے لیے قرآن میں حکم دیا گیا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۔ (8:39) یعنی مشرکوں سے لڑو یہاں تک کہ فتنے کی حالت باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔ فتنے کے معنی آزمائش کے ہیں۔ فَتَنَ فُلاناً عَن رَایہِ کے معنی ہیں رائے سے پھیر دینا۔ قرآن میں آیا ہے: موسیٰ کو اس کی قوم میں چند نو جوانوں کے سواکسی نے نہ مانا، فرعون اور اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے جن کو اندیشہ تھا کہ فرعون ان کو ستائے گا۔ (10:83) اس آیت میں اَن يَفْتِنَهُم کا لفظ ہے جو ستانے اور عذاب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ گویا فتنے کے معنی تقریباً وہی ہیں جس کو انگریزی زبان میں (persecution) کہتے ہیں۔ یعنی کوئی رائے یا عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فتنه تھا جس کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔ وہ شرک کا فتنه تھا۔ چنانچہ مفسرین نے ان آیات میں فتنے کی تفسیر ’’شرک‘‘ سے کی ہے۔ تاہم یہاں فتنه سے مراد مطلق شرک نہیں بلکہ شرک جارح ہے۔ کیوں کہ شرک جب جارح ہو تبھی وہ روکنے والا بنتا ہے۔ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ کا مطلب ہے حتیٰ لا يُفْتَنَ رَجُلٌ عَنْ دِينِهِ۔ یعنی شرک جارح سے لڑ کر اسے ختم کر دو تا کہ دینِ شرک بے زور اور مغلوب ہو کر رہ جائے اور غالب دین کی حیثیت سے صرف دین توحید دنیا میں باقی رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page