Urdu book · راہِ عمل

پیغمبر کا کام

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

شرک اپنی ابتدائی صورت میں محض ایک عقیدہ ہے۔ مگر قدیم زمانے میں اس نے ”فتنہ“ کا مقام حاصل کر لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانے میں انسانی فکر پر شرک کا غلبہ تھا۔ زندگی کے ہر معاملے کو شرک کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ حتی کہ سیاست و حکومت کی بنیاد بھی شرک کے اوپر قائم تھی۔ لوگ سورج اور چاند جیسی چیزوں کو دیوتا سمجھتے تھے اور شاہی خاندان اپنے آپ کو ان دیوتاؤں کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس بنا پر جب توحید کا داعی یہ کہتا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو قدیم بادشاہوں کو یہ نظریہ ان کے حق حکمرانی کی تردید کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ اس کو اپنا حریف سمجھ کر اس کو مٹانے کے درپے ہو جاتے۔ عرب میں اور اطراف عرب میں توحید کی بنیاد پر جو اسلامی انقلاب آیا اس نے شرک کو فکری غلبے کے مقام سے ہٹا دیا۔ اب شرک کی حیثیت ایک ذاتی عقیدہ کی ہوگئی، نہ کہ ایک ایسے عوامی نظریہ کی جس کے اوپر سماجی زندگی کا پورا نظام قائم ہو۔ نتیجہ شرک کا رشتہ اقتدار سے ٹوٹ گیا۔ کیوں کہ اب شرک کی بنیاد پر کسی کے حق حکمرانی کا دعوی کرنے کا موقع باقی نہیں رہا تھا۔ معلوم انسانی تاریخ میں یہ تبدیلی بالکل پہلی بار آئی۔ اس کے ہمہ گیر اثرات میں سے دو چیزیں یہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ معلوم ہوا کہ خدا صرف ایک ہے اور بقیہ تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر مظاہرِ فطرت کے تقدس کا ذہن ختم ہو گیا۔ وہ چیزیں جو اب تک انسان کے لیے پرستش کا عنوان بنی ہوئی تھیں، وہ اس کو اپنی خادم نظر آنے لگیں: هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا۔ (2:29) اب آدمی نے چاہا کہ وہ ان چیزوں کو جانے اور ان کو استعمال کرے ۔ انسانی ذہن کی یہی وہ تبدیلی ہے جس نے تاریخ میں توہماتی دور کو ختم کر کے سائنس کے دور کو شروع کیا۔ اسی کے ساتھ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہت کا دور کم از کم نظریاتی طور پر ختم ہو گیا اور عوامی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page