Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

حکمرانی کے دور کا آغاز ہوا۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ تمام انسان یکساں ہیں، کسی انسان کے اندر کوئی خدائی صفت نہیں تو اس کے بعد بالکل قدرتی طور پر خدائی حق حکمرانی کے لیے زمین باقی نہیں رہی۔ ان دونوں انقلابات کا آغاز مدینہ سے ہوگیا تھا۔ اس کے بعد وہ دمشق، بغداد، اسپین اور سسلی ہوتا ہوا قدیم آباد دنیا کے بڑے حصے میں پھیل گیا۔ اس مدت میں قدیم حالات کے اثر سے اس فکری تحریک کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس کا سفر جاری رہا۔ مخالف طاقتوں کی کوئی بھی کوشش اس میں کامیاب نہ ہوسکی کہ وہ مظاہر فطرت کے تقدس کے دور کو دوبارہ اس کی سابقہ عظمت کے ساتھ واپس لاسکے۔ اور نہ کسی حکمران کے لیے کبھی یہ ممکن ہوا کہ وہ اس طرح مقدس بادشاہ ہونے کا مقام حاصل کرلے جیسا کہ عراق کے نمرود اور مصر کے فرعون کو قدیم زمانے میں حاصل تھا۔ مسلم دنیا سے مغربی دنیا کی طرف ابتداءً تقریباً ایک ہزار سال تک یہ عمل مسلم دنیا میں ہوتا رہا۔ مگر سولھویں صدی عیسوی میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مسلمانوں کے آپس کے اختلاف کی وجہ سے ایک طرف بغداد کی عباسی خلافت ٹوٹ گئی اور دوسری طرف اسی باہمی اختلافات کے نتیجے میں اسپین کا مسلم اقتدار ختم ہوگیا۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں کوئی ادارہ ان لوگوں کی سرپرستی کرنے والا نہ رہا جو علمی وفکری تحقیق کا کام کر رہے تھے۔ چنانچہ علماء اور مفکرین کی بڑی تعداد دھیرے دھیرے اٹلی اور فرانس کی طرف منتقل ہوگئی۔ مخصوص اسباب کی بنا پر یورپ میں ان لوگوں کو بہت پذیرائی ملی۔ انقلابی عمل جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہورہا تھا، وہ یورپ کی دنیا میں ہونے لگا۔ تاہم یورپ پہنچ کر اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی۔ مسلم دنیا میں یہ کام اسلام کے زیر اثر ہورہا تھا، یورپ کو اسلام سے دلچسپی نہ تھی، اس نے اس کو اسلام سے جدا کر کے خالص علمی حیثیت سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page