Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

فروغ دینا شروع کیا۔ اگر چہ مسلم علوم اور عربی زبان کی اس منتقلی کا اثر یورپ کے مسیحی عقائد پر بھی پڑا۔ حتی کہ مارٹن لوتھر (1546-1483) براہِ راست طور پر یورپ کے اوپر اسلامی اثرات کی پیداوار تھا۔ تاہم علمی و فکری تحریک کا ارتقاء یورپ میں آزاد سیکولر شعبہ کے طور پر ہوا، نہ کہ مذہب کے ایک ذیلی شعبہ کے طور پر، جدید مغرب کا سائنسی اور جمہوری انقلاب تمام تر اسلامی انقلاب کی دین ہے۔ البتہ مغرب نے اس کو مذہب سے جدا کر کے سیکولر شکل دے دی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید مغربی انقلاب، اسلامی انقلاب کی ایک دنیوی صورت ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایٹم بم آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی فوجی صورت ہے اور قومی ملکیت مارکسی نظریہ کی معاشی صورت۔ جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت جدید مغربی انقلاب، اپنی عمومی حیثیت میں، خود اسلام کا پیدا کردہ تھا۔ اس کے نتائج اسلامی نقطہ نظر سے بے حد اہم تھے۔ اس انقلاب نے دنیوی اعتبار سے اس دعا کی تکمیل کر دی تھی جس کو خدا نے ان الفاظ میں ہمیں تلقین کیا تھا: اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلے لوگوں پر ڈالا (البقرہ، 2:862) اس انقلاب کے نتیجہ میں زندگی کے نظام میں ہمارے موافق جو تبدیلیاں ہوئیں وہ خاص طور پر یہ تھیں: 1۔ قدیم زمانے کے بادشاہ لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر حکومت کرتے تھے کہ وہ سورج دیوتا یا چاند دیوتا کی اولاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں توحید کی دعوت فوراً سیاسی اقتدار کی حریف بن جاتی تھی اور مشرک بادشاہوں کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی۔ شرک کی تردید کو وہ اپنے حق حکمرانی کی تردید کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ اسلامی انقلاب کی تکمیل کے طور پر یورپ میں جو جمہوری انقلاب آیا ہے اس نے اس نزاکت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ کیوں کہ آج کا حکمراں عوامی رائے سے حکمرانی کا حق حاصل کرتا ہے، نہ کہ خدا کے ساتھ اپنا مفروضہ ألوہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page