جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
رشتہ جوڑ کر۔ اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان کھول دیا کہ توحید کی تبلیغ اس اندیشے کے بغیر کی جائے کہ پہلے ہی مرحلے میں غیر ضروری طور پر اس کا ٹکراؤ سیاسی ادارہ سے ہو جائے اور وہ اس کو کچل کر رکھ دے، جیسا کہ اسلام سے پہلے ساری تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔ 2_ قدیم زمانے میں مظاہرِ فطرت (سورج ، چاند، دریا وغیرہ) کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے مغرب کے سائنسی انقلاب کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کے واقعات خدائی مظاہر کے بجائے عام مادی مظاہر سمجھے جانے لگے۔ جو چیز پہلے پوجنے کی چیز سمجھی جاتی تھی وہ اب تحقیق وتجسس کی چیز بن گئی۔ اس کے نتیجے میں جدید سائنسی اور تکنیکی انقلاب پیدا ہوا جس نے بے شمار نئی طاقتیں انسان کے قبضہ میں دے دیں۔ اس انقلاب کے ذریعہ تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں اور جدید ذرائع ابلاغ (پریس، ریڈیو وغیرہ) تک انسان کی دسترس ہوئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ کسی عقیدہ کی تبلیغ عالمی اور بین اقوامی سطح پر کی جاسکے۔ خدا کے دین کی دعوت مقامی دعوت کے مرحلے سے گزر کر عالمی دعوت کے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ 3_ اس انقلاب کے ذریعہ کائنات کے وہ چھپے ہوئے حقائق سامنے آئے جو توحید اور اس سے متعلق نظریات کے حق میں اعلیٰ علمی دلائل فراہم کر رہے ہیں۔ جنہوں نے قرآن کے کائناتی اشاروں کو کھول کر ہر ایک کے لیے انہیں قابل فہم بنا دیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار وہ دور آیا جب کہ کائناتی نشانیاں معجزہ کا بدل بن جائیں۔ دینی حقیقتوں کو مشاہداتی دلائل کی سطح پر ثابت کیا جاسکے۔ 4_ پھر اسی انقلاب کے ذریعہ تاریخ میں پہلی بار معاملات پر غور و فکر کا سائنسی، بالفاظ دیگر، واقعاتی نقطہ نظر پیدا ہوا۔ کائنات کا علم صرف اسی وقت حاصل ہوسکتا تھا جب کہ انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں اس پر غور کیا جائے۔ اس لیے اس کے اثر سے علمی دنیا میں یہی عام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader