Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

ذھن بن گیا۔ اب واقعات کو واقعات کی رو سے دیکھا جانے لگا، نہ کہ خوش عقیدگی یا توہمات کے اعتبار سے۔ اب یہ فضا پیدا ہوئی کہ مذاہب کی خالص علمی اور تاریخی تحقیق کی جائے۔ اسی اندازِ مطالعہ کا یہ نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانے میں علمی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اسلام کے سوا جتنے مذاہب ہیں سب کے سب غیر تاریخی (اور اس بنا پر ناقابل اعتبار) ہیں۔ مذاہب کے درمیان جس مذہب کو تاریخی اعتباریت کا درجہ حاصل ہے وہ صرف اسلام ہے۔ (ملاحظہ ہو: دی بائبل، دی قرآن اینڈ سائنس) مغرب کا غلبہ مسلم دنیا پر مسلم دنیا نے صلیبی جنگوں (1271-1095) میں مسیحی یورپ پر فتح پائی تھی۔ مگر اس فتح کے بعد ہی برعکس عمل بھی شروع ہو گیا۔ مسیحی یورپ نے محسوس کیا کہ اس کی شکست کا سبب علمی اور فکری میدان میں مسلم دنیا سے اس کا پیچھے ہونا تھا۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے بعد یورپ نے تیزی سے مسلمانوں کے علوم اور عربی زبان کو سیکھنا شروع کر دیا۔ بعد کی صدیوں میں جب مسلم دنیا کے اہل علم یورپ کے ملکوں میں منتقل ہوئے تو وہاں یہ عمل اور تیزی سے جاری ہو گیا۔ بالآخر مغرب کی ترقی اس نوبت کو پہنچی کہ وہ علم و عمل کے تمام شعبوں میں مسلم قوموں سے آگے بڑھ گیا۔ اب اس نے مسلم ممالک میں داخل ہونا شروع کیا اور انیسویں صدی تک یہ حال ہوا کہ تقریباً تمام مسلم دنیا پر مغربی قوموں کا تسلّط قائم ہو گیا۔ یہی سیاسی حادثہ اس بات کا سبب بن گیا کہ مذکورہ قیمتی امکانات اسلامی دعوت کے حق میں استعمال نہ ہو سکیں۔ صلیبی جنگوں میں ہاری ہوئی قوموں کو دوبارہ مسلم علاقوں میں گھستے ہوئے دیکھ کر لوگ پھر اٹھے۔ ساری مسلم دنیا میں مغرب کے خلاف سیاسی زور آزمائی شروع ہو گئی۔ حتیٰ کہ بہت سے لوگ سیاسی مقابلہ آرائی ہی کو عین اسلام ثابت کرنے لگے تاکہ لوگ جب اجنبی حکمرانوں سے لڑ کر فارغ ہوں تو خود اپنے ملکی حکمرانوں کے خلاف مقدّس سیاسی جہاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page