راہِ عمل
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
چھیڑ دیں۔ اس فضا میں کسی کو یہ سوچنے کا موقع ہی نہ ملا کہ جدید دنیا نے کچھ نئے امکانات کھولے ہیں اور وہ اسلام کے حق میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ جدید مواقع انتظار کرتے رہے کہ ہم ان کو استعمال کر کے اسلام کی دعوت کو سارے عالم میں پھیلا دیں اور نتیجہً خدا کی نصرت کے مستحق ہوں۔ مگر ہماری سیاسی نفسیات نے ہم کو ادھر توجہ دینے کی فرصت ہی نہ دی۔ سیاسی انقلاب کی نوعیت سیاسی انقلاب کی اہمیت اسلام میں کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے سیاسی انقلاب دراصل اس کا نام ہے کہ اہل حق کو اہل باطل پر غلبہ حاصل ہو جائے۔ (الصّف، 61:9) قرآن کی صراحت کے مطابق یہ غلبہ خدا کی توفیق اور نصرت سے حاصل ہوتا ہے: وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ۔ (3:126) اور خدا کی نصرت کا استحقاق حاصل کرنے کی واحد لازمی شرط دعوت ہے۔ اہل حق جب دعوت کے عمل کو اس کی تمام صالح شرائط کے ساتھ شروع کریں اور اس کو کرتے ہوئے اتمام حجت کے قریب پہنچا دیں تو اس وقت اس دعوتی عمل کی تکمیل کے نتیجے میں ایک طرف اہل حق انعام کے مستحق ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف اہل باطل سزا کے مستحق۔ اس وقت خدائی منصوبے کے تحت حالات میں تبدیلی شروع ہو جاتی ہے۔ اہل حق خدائی طاقت سے مسلح ہو کر اہل باطل پر غالب آتے ہیں۔ دعوت حق اور اتمام حجت کے بغیر محض سیاسی کارروائیوں سے کبھی کسی مسلم گروہ کو غیر مسلم طاقتوں پر غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ خدا کی سنّت ہے اور خدا کی سنّت میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ (الانعام، 6:131) غیر مسلم اقوام کے لیے غلبہ کا فیصلہ خدا کے عام قانون امتحان کے تحت ہوتا ہے۔ (یونس، 10:14) مگر اہل ایمان کے لیے غلبہ کا فیصلہ قانون اتمام حجت کے تحت ہوتا ہے۔ اگر ہم غیر مسلم گروہ پر دعوتی عمل کو انجام نہ دیں تو ہم کو یہ امید بھی نہ کرنی چاہیے کہ غیر مسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader