سبب کے بجائے مرض
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مہم محمد احمد۔ شاہ بانو بیگم کے کیس پر سپریم کورٹ آف انڈیا کے فیصلے کے بعد چلائی گئی۔ سپریم کورٹ نے شاہ بانو بیگم کی درخواست پر اس کے سابقہ شوہر کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی (شاہ بانو) کو 180 روپے ماہوار بطور گزارہ ادا کرے۔ اسلامی شریعت میں چوں کہ مطلقہ کے لیے صرف وقتی متاع ہے، نہ کہ مستقل گزارہ۔ اس لیے مسلم رہنماؤں کو سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ شریعت میں مداخلت نظر آیا اور انہوں نے اس فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے اس کے خلاف طوفانی مہم شروع کردی۔ لیکن گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو شاہ بانو بیگم کا واقعہ محض ایک علامت ہے، نہ کہ اصل سبب۔ اس قسم کے واقعات کا اصل سبب یہ ہے کہ موجودہ مسلم معاشرے میں اسلامی قانون کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف علامتیں ظاہر ہو رہی ہیں جن میں سے ایک وہ واقعہ تھا جس کا مظاہرہ شاہ بانو بیگم کے واقعے کی صورت میں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ طلاق کے دو طریقے ہیں۔ ایک طلاق سنت اور دوسرا طلاق بدعت۔ طلاق سنت یہ ہے کہ تین طہر میں الگ الگ طلاق دی جائے۔ بالفاظ دیگر طلاق کے عمل کی تکمیل تین مہینہ میں ہو۔ اس کے مقابلے میں طلاق بدعت یہ ہے کہ آدمی بیک وقت طلاق، طلاق، طلاق کہہ کر اپنی بیوی کو علاحدہ کر دے۔ تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ طلاق سنّت ہی طلاق کا صحیح شرعی طریقہ ہے۔ طلاق بدعت طلاق کا غلط طریقہ ہے۔ اس معاملے میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف اگر ہے تو اس معاملے میں ہے کہ کوئی شخص اگر ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے بیٹھے تو یہ طلاق عملاً واقع ہوگی یا نہیں۔ اب موجودہ مسلم معاشرہ کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ مسلمانوں میں تقریباً بیس فی صد طلاق بدعت کا طریقہ رائج ہو گیا ہے اور یہی فساد کی اصل جڑ ہے۔ اگر لوگ طلاق کے مقررہ طریقے (طلاق سنت) پر عمل کریں تو یقینی طور پر طلاقوں کی تعداد میں 99 فیصد تک کمی ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader