Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

گروہ پر ہمیں غلبہ عطا کیا جائے گا۔ دعوتی عمل ہی تو غیر مسلم گروہ پر غلبہ کی قیمت ہے۔ پھر جب قیمت ادا نہ کی گئی ہو تو متاع مطلوب آخر کس طرح حاصل ہوگی۔ مسلم دنیا میں سیاسی ردِ عمل چودھویں صدی ہجری کا آغاز اس وقت ہوا جب کہ انیسویں صدی عیسوی کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ اس اعتبار سے چودھویں صدی ہجری اسلامی تاریخ کی اہم ترین صدی تھی۔ کیوں کہ یہ اس وقت آئی جب کہ اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہونے والا عمل اپنی آخری تکمیل کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جس عالمی ہدایت کا دروازہ کھولا تھا، اس کو بروئے کار لانے کے حالات اور ضروری وسائل اپنی کامل صورت میں مہیا ہو کر ہمارے سامنے آچکے تھے۔ مگر تاریخ کا غالباً یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ دروازہ عین اس وقت خود مسلمانوں کے ہاتھوں بند ہو گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں کھولا تھا۔ جدید انقلاب نے یورپ کو جو طاقتیں دی تھیں ان کو اس نے اسی طرح اپنے قومی عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جس طرح کوئی بھی قوم ان حالات میں کرتی ہے۔ مغربی قوموں کی دسترس جیسے ہی جدید طاقتوں پر ہوئی ان کے یہاں وہ چیز وجود میں آئی جس کو مغربی استعمار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے جغرافیہ سے نکل کر خشکی اور تری میں اپنے جھنڈے گاڑے۔ قوموں کے درمیان اپنی تہذیب پھیلائی۔ جن لوگوں نے ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالی ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ مغربی قوموں کے ان عزائم کا براہِ راست شکار ہونے والے زیادہ تر مسلمان تھے۔ کیوں کہ اس وقت یورپ کے باہر اکثر آباد دنیا مسلمانوں ہی کے زیرِ اقتدار تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چیز جس کو ہم نے اسلامی انقلاب کا سیکولر نتیجہ کہا ہے، اس کا تعارف مسلمانوں سے اپنے پہلے ہی مرحلہ میں اس حیثیت سے ہوا گویا کہ وہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page