راہِ عمل
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
دشمن طاقت ہے جو مسلمانوں کو ان کی تمام عظمتوں سے محروم کرکے ان کو ایک مغلوب اور پسماندہ قوم بنا دینا چاہتی ہے۔ مغربی انقلاب کا افادی پہلوان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، وہ اس کو اپنے سیاسی اقتصادی حریف کی حیثیت سے دیکھنے لگے۔ چودھویں صدی ہجری کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی جب کہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام کی دعوت توحید کو یسر (آسانی) کے حالات میں انجام دیا جائے جب کہ اس سے پہلے صرف عُسر (سختی) کے حالات ہی میں اس کو انجام دینا ممکن ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی پہلی بار ہوا کہ خود انسان کے اپنے مسلمات کے مطابق اسلام کا دیگر ادیان کے مقابلے میں واحد معتبر دین ہونا ثابت کیا جائے اور اس کو اعلیٰ ترین علمی شواہد سے اس طرح مدلل کر دیا جائے کہ کسی کے لیے انکار کی جرات باقی نہ رہے۔ نیز اس صدی میں پہلی بار تیز رفتار سواریاں اور تبلیغ کے جدید ذرائع انسان کے قبضے میں آئے جن سے کام لے کر اسلام کے پیغام کو بین اقوامی سطح پر پھیلا یا جا سکتا تھا۔ مگر جو تو میں ان خدائی برکتوں کو ہماری طرف لا رہی تھیں وہ اتفاقی حالات کے نتیجے میں ہماری سیاسی حریف بن گئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری مسلم دنیا مغرب کے بارے میں مخالفانہ نفسیات کا شکار ہو گئی ، مغرب کی طرف سے آنے والے انقلاب کا افادی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ حالاں کہ خدا نے مسلمانوں کے لیے ایسا امکان کھولا تھا کہ وہ خود مغرب کے پیدا کردہ حالات کو اپنے دعوتی مقاصد میں استعمال کرکے مغرب کو نظریاتی طور پر فتح کر سکتے تھے۔ اگر مسلمانوں نے بروقت اس دانش مندی کا ثبوت دیا ہوتا تو چودھویں صدی ہجری میں وہ واقعہ دوبارہ نئے انداز سے پیش آتا جو آٹھویں صدی ہجری میں تاتاری فاتحین کے خادمان اسلام بن جانے کی صورت میں پیش آ چکا ہے۔ موجودہ زمانے کی اسلامی تحریکیں چودھویں صدی ہجری میں ساری مسلم دنیا میں بے شمار اسلامی تحریکیں اٹھیں۔ مگر ضمنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader