Urdu book · راہِ عمل

موجودہ زمانے کی اسلامی تحریکیں

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

فرق کے باوجود یہ تمام تحریکیں ردِعمل کی تحریکیں تھیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں مثبت تحریکیں۔ جدید مسلم قیادت ”مغرب“ کے نام سے جس چیز سے واقف ہوئی وہ صرف یہ تھا کہ یہ ایک حملہ آور قوم ہے جو ہمارے لیے سیاسی چیلنج بن کر اٹھی ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر ہے کہ مغرب دراصل کچھ جدید قوتوں کی دریافت کا نام ہے اور یہ قوتیں اسلام کے لیے عین مفید ہیں بلکہ بالواسطہ طور پر خود اسلامی انقلاب کی پیدا کردہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسلم تحریکیں نئے امکانات سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، وہ جدید قوموں کے مقابلے میں صرف ایک منفی رول ادا کر کے رہ گئیں۔ اس صورتِ حال کا مزید نقصان یہ ہوا کہ دوسری قوموں سے ہمارا صحیح اسلامی رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ مسلمان کے لیے دوسری قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر مذکورہ منفی نفسیات کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم نے ان قوموں کو مدعو نہ سمجھا، ان کو صرف حریف کی نظر سے دیکھا۔ اسلامی تحریکیں پیغامِ آخرت کی تحریکیں نہ رہیں بلکہ پیغامِ سیاست کی تحریکیں بن گئیں۔ ان تحریکوں نے انداز کے فرق کے ساتھ، جدید دنیا کو جس ”اسلام“ سے واقف کرایا وہ محض ایک قسم کا قومی اسلام تھا، نہ کہ خدا کا وہ دین جو انسانوں کو آخرت کی ابدی کامیابی کا راستہ دکھانے کے لیے آیا ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق حریف اور مدِّ مقابل کا تعلق بن کر رہ گیا۔ یہ مسلم تحریکیں اپنی جس معذوری کی وجہ سے ”مغرب بحیثیت استعمار“ اور ”مغرب بحیثیت جدید قوت“ کو الگ الگ کر کے نہ دیکھ سکیں، اسی معذوری کا یہ نتیجہ بھی ہوا کہ انہوں نے جدید قوموں کے خلاف اپنی مہم میں نہ تو نئی قوتیں فراہم کیں اور نہ نئے حالات کی رعایت کی۔ حد درجہ نادانی کے ساتھ سو سال سے بھی زیادہ عرصے تک جان و مال کی قربانیاں دی جاتی رہیں جبکہ ان قربانیوں کے لیے قطعی طور پر مقدر تھا کہ اسباب کی اس دنیا میں وہ بالکل رائیگاں ہو کر رہ جائیں۔ اس طویل غیر حقیقت پسندانہ سیاست کی اب یہ نفسیاتی قیمت مسلمانوں کو دینی پڑی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page