Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

رہی ہے کہ پوری کی پوری مسلم دنیا ایک قسم کے فرضی جنون عظمت (paranoia) کا شکار ہو کر رہ گئی ہے اور اب کوئی حقیقت پسندانہ بات اسے اپیل ہی نہیں کرتی۔ فخر نہیں ذمہ داری پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم اکتوبر 1980ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی۔ ان کی ڈیڑھ گھنٹہ کی یہ تقریر ان کے اپنے الفاظ میں دنیا بھر کے 90 کروڑ مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے تھی۔ ان کی لکھی ہوئی تقریر کا ایک پیرا گراف یہ تھا: “As they enter 15th Century Hijra, the Islamic peoples, who have rediscovered their pride in their religion, their great culture and their unique social and economic institutions, are confident that the advent of this century would mark the beginning of a new epoch, when their high ideals of peace, justice, equality of man, and their unique understanding of the universe, would once again enable them to make a worthy contribution to the betterment of mankind.” اب کہ اسلامی قو میں پندرہویں صدی ہجری میں داخل ہورہی ہیں، انہوں نے اپنے مذہب، اپنے عظیم کلچر اور اپنے بے مثل سماجی اور معاشی اداروں میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کر لیا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ اس صدی کا آغاز ایک نئے عہد کی ابتدا ثابت ہوگا جب کہ امن، انصاف، انسانی برابری اور کائنات کے بارے میں ان کا بے مثل شعور ان کو دوبارہ اس قابل بنائے گا کہ وہ انسانیت کی بھلائی میں قابل قدر حصہ ادا کرسکیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے یہ بات موجودہ مسلمانوں کی تعریف کے طور پر کہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی میں مسلمانوں کا وہ المیہ بھی چھپا ہوا ہے جس نے موجودہ زمانے میں ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page