فخر نہیں ذمہ داری
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
کی تمام اسلامی کوششوں کو بے قیمت بنا دیا ہے۔ آج ساری مسلم دنیا میں اسلام کے نام پر زبردست سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر یہ ساری دھوم فخر (pride) کے طور پر ہے، نہ کہ ذمہ داری کے طور پر۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی سرگرمی فخر کے احساس کی بنیاد پر اٹھتی ہے (الحدید، 57:20) اور اخروی سرگرمی عبدیت کے احساس کی بنیاد پر (الذاریات، 51:56) فخر سے انانیت اور مطالبے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اور عبدیت سے عجز اور ذمہ داری کا۔ اسلامی تحریک وہ ہے جو جہنم سے ڈرانے کے لیے اٹھے۔ مگر موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں دنیا میں بڑائی حاصل کرنے کے جذبہ سے اٹھی ہیں۔ قومی سربلندی کے احساس نے ان کو کھڑا کیا ہے۔ آج کے مسلمانوں کے لیے اسلام ایک ناز کی چیز ہے، نہ کہ حقیقتاً آخرت کی صراط مستقیم۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ تحریکیں مسلمانوں کی قومی تحریکیں ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی تحریکیں۔ مسلمانوں کے یہاں آج جس مذہب کی دھوم ہے وہ قومی مذہب ہے، نہ کہ خدائی مذہب۔ کیوں کہ قومی مذہب سے ہمیشہ فخر کی نفسیات ابھرتی ہے اور خدائی مذہب سے ذمہ داری کی نفسیات۔ حقیقی اسلام آدمی کے اندر عجز اور تواضع پیدا کرتا ہے اور جہاں عجز اور تواضع ہو وہاں گویا ساری بھلائیاں جمع ہوگئیں۔ کیوں کہ ہر خرابی کی جڑ کبر اور ہر اچھائی کی جڑ عجز ہے۔ ایسے افراد میں ان کے اسلام کے لازمی نتیجہ کے طور پر خدا کا خوف، آخرت کی طلب، باہمی اتحاد، ایک دوسرے کی خیر خواہی، شکایتوں سے درگزر کرنا، تعمیری کاموں کی طرف توجہ اور حقوق کے مقابلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ اور جس سماج میں ایسی نفسیات والے انسان قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہو جائیں وہ اپنے آپ دنیا میں سب سے اونچا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس قومی اسلام آدمی کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتا ہے اور جہاں فخر و ناز کے جذبات ہوں وہاں گویا تمام برائیاں جمع ہوگئیں۔ ایسے افراد کے اندر انانیت،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader