فخر نہیں ذمہ داری
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت سے بے خوفی، اپنی غلطیوں کو دیکھنے کے بجائے دوسروں کا احتساب اور پھر ان کیفیات کے نتیجہ میں اختلاف اور باہمی ٹکراؤ عام ہو جاتا ہے۔ وہ خاموش تعمیری کام کے مقابلہ میں نمائش یکاموں کی طرف رغبت رکھتے ہیں۔ وہ پیچھے چلنے کے بجائے ہمیشہ آگے چلنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ وہ اپنے معمولی کام کو بڑے بڑے الفاظ میں بیان کرتے ہیں تاکہ اپنے برتری کے جذبہ کو تسکین دے سکیں۔ اسلام ایسے لوگوں کے درمیان کرنے سے زیادہ کہنے کی چیز ہوتا ہے۔ اور جہاں ایسا اسلام ہو وہاں لوگوں کے اوپر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے، نہ کہ خدا کی رحمت و نصرت۔ یہودیوں کی صہیونی تحریک قدیم اسرائیلی عظمت کو واپس لانے کی تحریک ہے۔ ہندوؤں کی آر ایس ایس تنظیم اپنے شان دار ماضی کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے اٹھی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی بھی ایک پر فخر دنیوی تاریخ ہے اور موجودہ زمانے کی مسلم تحریکیں کسی نہ کسی اعتبار سے اسی پر فخر ماضی کو واپس لانے کے جذبے سے ابھری ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہودیوں اور ہندوؤں کی تحریکیں مذہبی اصطلاحات استعمال کرنے کے باوجود حقیقی معنوں میں مذہبی تحریکیں نہیں ہیں، وہ یقینی طور پر صرف قومی تحریکیں ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کی اسی قسم کے جذبات کے تحت اٹھنے والی تحریکیں بھی محض اس لیے اسلامی تحریکیں نہیں بن جائیں گی کہ وہ اپنے مقصد کو اسلامی الفاظ میں بیان کرتی ہیں۔ خدا کسی کے عمل کو حقیقت کے اعتبار سے دیکھتا ہے، نہ کہ ظاہر کے اعتبار سے۔ جو تحریک قومی نفسیات کے ساتھ اٹھے وہ خدا کی نظر میں قومی تحریک ہی رہے گی، اس کا قرآن و حدیث کے الفاظ استعمال کرنا کسی بھی طرح اس کو اسلامی تحریک کا مقام نہیں دے سکتا۔ اور نہ اس پر خدا کے وہ وعدے پورے ہو سکتے جو صرف حقیقی اسلامی تحریک کے لیے مقدر ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader