کرنے کا کام
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کا کام اسلام چونکہ آخری دین ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اعتبار سے قیامت تک باقی رہے۔ اسی لیے دین کا تحفظ بھی ایک ضروری اور مطلوب کام ہے۔ موجودہ زمانے کی بعض تحریکوں نے اس اعتبار سے یقیناً مفید خدمات انجام دی ہیں۔ وہ اسلام کے فکری اور عملی نقشہ کی محافظ ثابت ہوئی ہیں۔ بعض ادارے قرآن اور حدیث اور اسلامی مسائل کے علم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بعض جماعتیں اسلامی عبادات کے ڈھانچے کو ایک نسل سے دوسری تک پہنچانے کا کام کر رہی ہیں۔ کچھ اور ادارے قرآن و حدیث کا متن صحت و صفائی کے ساتھ چھاپ کر ہر جگہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ تمام کام بجائے خود مفید ہیں مگر بہر حال وہ تحفظ دین کے کام ہیں، نہ کہ دعوتِ دین کے۔ جہاں تک اسلام کو دعوتی قوت کی حیثیت سے زندہ کرنے کا سوال ہے وہ موجودہ زمانے میں ابھی تک واقعہ نہ بن سکا۔ حتیٰ کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو شاید اس کا شعور بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر ایسے کاموں کو اسلامی دعوت کا عنوان دے دیتے ہیں جن کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پندرہویں صدی ہجری میں کسی حقیقی اسلامی کام کے آغاز کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو ختم کریں جس نے ساری دنیا میں اسلامی تحریک کو سیاسی تحریک کے ہم معنی بنا رکھا ہے۔ مسلمان ہر ملک میں وقت کے حکمرانوں کے خلاف شور و شر برپا کرنے میں مشغول ہیں۔ کہیں ان کی یہ تحریک غیر مسلم اقتدار کے خلاف بر پا ہے اور کہیں مسلم اقتدار کے خلاف۔ کہیں وہ مسلح جدوجہد کے روپ میں ہے اور کہیں زبانی اور قلمی احتجاج کے روپ میں کہیں وہ ایک اسلامی سیاسی فلسفہ کے زیر سایہ کام کر رہی ہے اور کہیں فلسفہ اور نظریہ کے بغیر متحرک ہے۔ کہیں اس نے ملی عنوان اختیار کر رکھا ہے اور کہیں نظامی عنوان۔ تا ہم سارے فرق و اختلاف کے باوجود نتیجہ سب کا ایک ہے۔ جدید امکانات کو دعوت توحید اور انذار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader