Urdu book · راہِ عمل

کرنے کا کام

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت کے لیے استعمال نہ کرنا اور اپنی قوتوں کو بے فائدہ طور پر مفروضہ حریفوں کے خلاف محاذ آرائی میں ضائع کرتے رہنا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بالکل الٹی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے خدا نے دعوت حق کی راہ سے سیاسی رکاوٹ کو دور کر کے نہیں موقع دیا تھا کہ وہ آزادانہ حالات میں خدا کے تمام بندوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی اس اسکیم سے باخبر کر دیں جس کے تحت اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جس کے مطابق وہ ایک ایک شخص کا حساب لینے والا ہے۔ مگر انہوں نے دوبارہ نئے نئے عنوان سے اپنے خلاف سیاسی رکاوٹیں کھڑی کر لیں۔ خود ساختہ سیاسی جہاد میں ہر ایک مشغول ہے مگر دعوتی جہاد میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ قرآن میں ہے کہ اللہ اس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد کرے۔ (الحج، 22:40) ہر دور میں خدا اپنے دین کے حق میں کچھ امکانات کھولتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ لوگ ہوں جو خدا کے اشارے کو سمجھیں اور خدا کے منصوبے میں اپنے آپ کو شامل کر دیں۔ صحابہ کرام وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں خدائی منصوبے کو سمجھا اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے حوالہ کر دیا۔ اس کا نتیجہ وہ عظیم انقلاب تھا جس نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔ بارش کا آنا خدا کے ایک منصوبے کا خاموش اعلان ہے۔ یہ کہ آدمی اپنا بیج زمین میں ڈالے تا کہ خدا اپنے کائناتی نظام کو اس کے موافق کر کے اس کے بیج کو ایک پوری فصل کی صورت میں اس کی طرف لوٹائے۔ کسان اس خدائی اشارے کو فوراً سمجھ لیتا ہے اور اپنے آپ کو اس خدائی منصوبے میں پوری طرح شامل کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں اس کو واپس ملتا ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں، ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں، اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے حق میں کچھ نئے مواقع کھولے تھے۔ یہ مواقع کہ اقتدار کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page