Urdu book · راہِ عمل

کرنے کا کام

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

حریف بنے بغیر توحید اور آخرت کی دعوت کو عام کیا جائے۔ جو کام پہلے معجزاتی سطح پر انجام دینا پڑتا تھا، اس کو عام طبیعیاتی استدلال کی سطح پر انجام دیا جائے۔ جو کام پہلے تعصب کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا اس کو مذہبی رواداری کے ماحول میں کیا جائے۔ جو کام پہلے ”حیوانی رفتار“ سے کیا جاتا تھا اس کو ”مشینی رفتار“ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ یہ موجودہ زمانے میں خدا کا منصوبہ تھا۔ خدا نے سارے بہترین امکانات کھول دیے تھے اور اب صرف اس کی ضرورت تھی کہ خدا کے کچھ بندے ان کو استعمال کر کے ان امکانات کو واقعہ بننے کا موقع دیں۔ مگر مسلم قیادت خدا کے اس منصوبہ میں شامل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے نئے نئے عنوانات کے تحت وہی سیاسی جھگڑے دوبارہ چھیڑ دیے، جن کو خدا نے ہزار سالہ عمل کے نتیجے میں ختم کیا تھا۔ انہوں نے اسلامی دعوت کو سیاسی اور قومی دعوت بنا کر دوبارہ اسلام کو اقتدار کا حریف بنا دیا اور کہا کہ یہی عین خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدعو قوموں کے ساتھ ہر جگہ بالکل بے فائدہ قسم کی مقابلہ آرائی شروع ہوگئی اور سارے نئے امکانات غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہ گئے۔ کام کی ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت مسلمانوں نے کھودی۔ یہاں تک کہ شیطان نے بیدار ہو کر قدیم شرک کی جگہ جدید شرک (کمیونزم) کی صورت میں کھڑا کر دیا۔ اب کمیونزم کے زیر تسلط علاقوں میں وقتی طور پر کام کرنے کی وہی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں جو اس سے پہلے شرک کے زیر تسلط علاقوں میں پائی جاتی تھیں۔ تاہم غیر کمیونسٹ دنیا میں اب بھی کام کے مواقع کھلے ہوئے ہیں اور یہاں پندرھویں صدی ہجری میں اس صالح جدوجہد کا آغاز کیا جاسکتا ہے جو چودھویں صدی ہجری میں نہ کیا جاسکا۔ ـــ نوٹ : یہ مقالہ اسلامی سیمینار (بھوپال) میں 18 جنوری 1981 کو پڑھا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page