دعوت اور عمل
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت اور عمل کوئی داعی اس وقت اللہ کی نظر میں داعی ہے جب کہ وہ داعی ہونے کے ساتھ عامل بھی ہو۔ آدمی جب کسی دوسرے شخص کو نیکی کی تلقین کرے تو سنجیدگی کا تقاضا ہے کہ وہ خود بھی اس پر کاربند ہو۔ حضرت شعیب نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میں خود ہی کام کروں جس سے میں تم کو روک رہا ہوں۔ (ہود، 11:88) مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمل ، دعوت کی شرط ہے۔ دعوت و تبلیغ کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا خواہ داعی عامل ہو یا نہ ہو۔ مفسر ابن کثیر نے سورۃ البقرہ (آیت : 44) کے تحت لکھا ہے: ”فَكُلٌّ مِنَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَفِعْلِهِ وَاجِبٌ لَا يَسْقُطُ أَحَدُهُمَا بِتَرْكِ الْآخَرِ عَلَى أَصَحِّ قَوْلَيْ الْعُلَمَاءِ مِنَ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ. وَذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى أَنَّ مُرْتَكِبَ الْمَعَاصِي لَا يَنْهَى غَيْرَهُ عَنْهَا وَهَذَا ضَعِيفٌ، وَأَضْعَفُ مِنْهُ تَمَسُّكُهُمْ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَإِنَّهُ لَا حُجَّةَ لَهُمْ فِيهَا، وَالصَّحِيحُ: أَنَّ الْعَالِمَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْهُ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَإِنِ ارْتَكَبَهُ، قَالَ مَالِكٌ عَنْ رَبِيعَةَ: سَمِعْتُ سعيد بن جبیر يقول: لَوْ كَانَ الْمَرْءُ لَا يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى لَا يَكُونَ فِيهِ شَيْءٌ مَا أَمَرَ أَحَدٌ بِمَعْرُوفِ وَلَا نَهَى عن منکر۔ قال مَالِكٌ : وَصَدَقَ مَنْ ذَا الَّذِي لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ ۔“ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 85) یعنی، ”پس معروف کی تلقین کرنا اور اس پر عمل کرنا دونوں ہی واجب ہیں ، ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ترک سے ساقط نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader