Urdu book · راہِ عمل

سبب کے بجائے مرض

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

جائے گی۔ کیوں کہ بیشتر طلاق وقتی غصے کے تحت دیے جاتے ہیں۔ غصہ اترتے ہی آدمی کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اس نے غلط کیا۔ ایسی حالت میں اگر تین طہر میں طلاق دینے کا رواج پڑ جائے تو دوسرے اور تیسرے طہر کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور آدمی طلاق سے رجوع کر کے اپنی بیوی کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنے لگے گا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مسلم رہنماؤں کے لیے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ جڑ کی اصلاح کریں مگر وہ شاخوں کے مسئلے پر دھوم مچا رہے ہیں۔ اگر وہ واقعتا اس اعتبار سے مسلم معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے کے خلاف مہم چلائیں، نہ کہ سپریم کورٹ کے خلاف۔ انہیں مسلمانوں کی ہر بستی اور ہر محلے میں پہنچ کر مسلمانوں سے کہنا چاہیے کہ تم لوگ اسلامی شریعت کے مطابق ازدواجی زندگی گزارو۔ اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اس کو طلاق کا عمل طلاق سنت کے مطابق انجام دینا چاہیے، نہ کہ طلاق بدعت کے مطابق، جو اسلام میں واضح طور پر منع ہے۔ ہمارے رہنماؤں نے پچھلے چند سالوں میں سپریم کورٹ اور حکومت ہند کے خلاف جتنی دھوم مچائی ہے اتنی ہی دھوم اگر انہوں نے موجودہ مسلم معاشرے کے خلاف مچائی ہوتی تو یقیناً یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہوتا۔ کیوں کہ یہ مرض کے اصل سبب پر عمل کرنا ہوتا۔ مگر جب انہوں نے سبب پر عمل نہیں کیا اور علامت کے خلاف ہنگامہ آرائی کرتے رہے تو ان کی ساری جدوجہد حبظ اعمال کا شکار ہو کر رہ گئی۔ وہ ایک فیصد بھی مسلم معاشرے کی اصلاح نہ کر سکے۔ اس سلسلے کی ایک عبرت ناک خبر وہ ہے جو دہلی کے ایک مسلم اخبار میں شائع ہوئی ہے۔ اس خبر کے الفاظ یہ ہیں: "اودے پور (راجستھان) کی ایک خاتون نے ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک مسلم ممبر کو ایک خط لکھا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ چوں کہ (مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page