Urdu book · راہِ عمل

دعوت اور عمل

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

علماء سلف اور علماء خلف کا صحیح ترین قول یہی ہے۔ ان میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص گناہوں کا مرتکب ہو وہ دوسرے کو انہیں گناہوں سے نہ روکے۔ مگر یہ قول ضعیف ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ ضعیف بات یہ ہے کہ اس کو سورۃ البقرہ کی آیت: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ (2:44) سے نکالا جائے، کیوں کہ اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں۔“ صحیح بات یہ ہے کہ عالم معروف کی تلقین کرے گا اگر چہ وہ اس پر عمل نہ کرتا ہو اور وہ منکر سے روکے گا اگرچہ وہ خود اس کا مرتکب ہو۔ مالک نے ربیعہ سے نقل کیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر ایسا ہوتا کہ آدمی صرف اس وقت معروف کی تلقین کرے اور منکر سے روکے کے جب کہ اس کے اندر کوئی چیز پائی نہ جا رہی ہو تو کسی شخص نے بھی معروف کی تلقین نہ کی ہوتی اور نہ وہ منکر سے روکتاد امام مالک نے کہا اور سچ کہا کہ کون شخص ہے جس کے اندر کوئی چیز نہیں۔“ اس معاملے میں علماء اسلام کا اتفاق اس لیے ہے کہ یہ ایک اصول کا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کے لیے عمل کی شرط دعوت کو ہمیشہ کے لیے نا قابل عمل بنا دیتی ہے۔ کیوں کہ ایک سچا عامل اور صالح انسان اللہ سے ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ ایسا آدمی آخرت کے احساس سے کانپتا رہتا ہے۔ اس کا احساس احتساب اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے بظاہر عمل کو بھی بے عمل سمجھنے لگتا ہے۔ ایسی حالت میں کون ہوگا جو اپنے صالح اور باعمل ہونے کا یقین کرے اور اس کے بعد وہ دعوت اسلامی کا آغاز کرے۔ اصل یہ ہے کہ دعوت احساس ذمہ داری کے تحت ظاہر ہونے والا عمل ہے، نہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page