Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

احساسِ صالحیت کے تحت۔ مدعو بھی جب اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کرتا ہے تو وہ اسلام کی اپنی صداقت کی بنا پر ایسا اقدام کرتا ہے، نہ کہ مسلمانوں کو باعمل ہونے کو دیکھ کر۔ اگر داعی کے باعمل ہونے کو دیکھ کر لوگ حق کو قبول کرتے تو تمام انبیاء کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی۔ مگر معلوم ہے کہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی بھی پیغمبر کے گرد انسانوں کی کوئی بڑی جماعت اکٹھا نہیں ہوئی۔ صحیح بات یہ ہے کہ دعوت ہر حال میں دینا ہے اور ہر شخص کو دینا ہے، اس کے لیے مذکورہ قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی جاسکتی۔ بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت حذیفہ نے ہم سے کہا کہ ہم اس علم دین کے حامل بنائے گئے تھے۔ اس کو ہم تمہیں دے رہے ہیں۔ اگرچہ ہم خود اس پر عمل نہ کر سکے : اِنَّا حَمَلْنَا ھَذَا الْعِلْمَ وَإِنَّا نُؤَدِّيْهِ إِلَيْكُمْ وَإِنْ كُنَّا لَا نَعْمَلُ بِہ۔ (المدخل إلى السنن الكبرى للبیہقی، اثر نمبر 839) اصل رکاوٹ کہا جاتا ہے کہ اسلامی دعوت کے حق میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسلامی اعمال والے لوگ نہیں۔ عام انسان صرف مثال کے ذریعہ انقلابی تاثر قبول کرتا ہے، نہ کہ علمی بحثوں اور عقلی دلیلوں کے ذریعے۔ مگر ہماری بے بسی یہ ہے کہ ہم مدعو سے یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ــ دیکھو یہ ہے اسلامی انسان، دیکھو یہ ہے اسلامی گھرانا، دیکھو یہ ہے اسلامی جماعت۔ یہ بات ظاہر نہایت درست معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ آدھی صداقت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس قول کی کوئی قیمت نہیں جس کے ساتھ عمل کی مطابقت شامل نہ ہو۔ اس اعتبار سے داعی کو بلاشبہ باعمل ہونا چاہیے۔ مگر یہ نہایت سادگی کی بات ہوگی کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ داعی اگر باعمل ہو تو تمام لوگ فوج در فوج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page