Urdu book · راہِ عمل

اصل رکاوٹ

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے ساتھی بن جائیں گے۔ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ تمام انبیاء اپنے عمل کے اعتبار سے معیاری انسان تھے ۔ وہ بلاشبہ مثالی کردار کے حامل تھے ۔ پھر کیا ان نبیوں کو دیکھ کر سارے لوگ جوق در جوق ان کے مومن بن گئے۔ قرآن بتاتا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ تمام نبیوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کر دیا۔ کردار و عمل کی تمام خوبیوں کے باوجود وہ ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ (یس، 36:30) حقیقت یہ ہے کہ سچائی کو اختیار کرنے میں اصل رکاوٹ داعی کا عمل نہیں بلکہ مدعو کی مفاد پرستی ہے ۔ داعی کی بات کو ماننے کے لیے لوگ اس لیے تیار نہیں ہوتے کہ اس کی بات ماننے سے لوگوں کی بڑائی ختم ہوتی ہے۔ ان کی آنا کا بت ٹوٹتا ہے۔ ان کے مفادات اور مصلحتوں کا تانا بانا منتشر ہوتا ہے۔ اپنی بنی بنائی زندگی کو توڑ کر از سر نو ایک نئے نقشے پر زندگی کی تعمیر کرنی پڑتی ہے۔ خاندانی روابط، سماجی تعلقات اور قومی بندھنوں کا سارا ڈھانچہ بگڑ کر رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ خود پرست ہیں، اس لیے وہ خدا پرست بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور یہی حق کو ماننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ نسل انسانی کے سب سے بہتر اور مثالی افراد (انبیاء علیہم السلام ) کا بھی لوگوں نے اعتراف نہیں کیا، بلکہ حقارت کے ساتھ ان کو نظر انداز کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page